منگل‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2025 

ای او بی آئی کی جانب سے شیئر خریدنے پر اربوں روپے کا نقصان کیوں اٹھانا پڑا؟ پبلک اکائونٹس کمیٹی میں انکشاف

datetime 9  جولائی  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی) پبلک اکائونٹس نے ای او بی آئی کی 108ملین روپے کی زمین خریداری معاملے پر سیکرٹری داخلہ اور ایف آئی اے کی ٹیم بنادی جو سولہ جولائی تک تحقیقاتی رپورٹ پیش کریگی جبکہ ای او بی آئی کی کی جانب سے شیئر خریدنے سے 4 اعشاریہ 82 ارب روپے کا نقصان ہوا ،شیئر خریدتے وقت تقاضے پورے نہیں کئے گئے ،جس کی وجہ سے اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا جس پر کمیٹی نے 7 دنوں میں

تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کردی۔ جمعرات کو سردار ایاز صادق کی زیر صدارت پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہواجس میں ای او بی آئی کی 108 ملین روپے کی زمین خریداری کا معاملہ زیر بحث آیا ۔کمیٹی نے سیکرٹری داخلہ اور ایف آئی اے کی ٹیم بنادی ،کمیٹی 16 جولائی تک تحقیقاتی رپورٹ کمیٹی کو پیش کریگی۔ورکرز ویلفیئر فنڈز کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ۔ورکرز ویلفیئر فنڈز کے 20 ارب روپے واپس جمع نہیں کروائے گئے۔ سر دار ایاز صادق نے کہاکہ یہ معاملہ 2006 2007 کا ہے اور ابھی تک اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ،یہ پیسہ ورکرز ویلفیئر فنڈز کا تھا جو کنسولیڈیٹو فنڈز میں چلا گیا۔ آڈٹ حکام کے مطابق کمیٹی وزارت خزانہ کو لکھ دے کہ پیسہ واپس ویلفیئر فنڈز کو جمع کروا دیا جائے ۔ وزارت خزانہ حکام نے کہاکہ اے جی پی آر کے ساتھ معاملات طے کرلیں ،اگر پیسے ویلفیئر فنڈز کے ہیں تو ان کو مل جائینگے ،کمیٹی نے معاملے کی 7 دنوں میں تحقیقات کروا کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ،کمیٹی سیکرٹری خزانہ کو معاملے کے حل کی بھی سفارش کردی ۔ سر دار ایاز صادق نے کاہکہ کیا یہ پیسہ مارک اپ کیساتھ دیا جائیگا یا اور طریقہ کار اپنایا جائیگا ۔اجلاس کے دور ان ای او بی آئی کی جانب سے شیئر خریدنے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ۔ اجلاس کے دور ان انکشاف ہوا کہ ای او بی آئی کی کی جانب سے شیئر خریدنے سے 4 اعشاریہ 82 ارب روپے کا نقصان

ہوا ،شیئر خریدتے وقت تقاضے پورے نہیں کئے گئے ،جس کی وجہ سے اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا،کمیٹی نے 7 دنوں میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کردی۔اجلاس میں او پی ایف کی ہائوسنگ اسکیم کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ۔ ہائوسنگ اسکیم کا 2 اعشاریہ 4 ارب روپے کا ٹھیکہ ٹینڈر کے بغیر ایف ڈبلیو او کو دیدیا گیا،ایف ڈبلیو او یا کسی بھی سنگل پارٹی کو ٹینڈر کے بغیر ٹھیکہ دینا پیپرا رولز کی خلاف ورزی ہے۔ کنوینئر کمیٹی نے کہاکہ یہ غیر قانونی عمل کیا گیا ،وزارت قانون سے جو کہا گیا اس کا جواب نہیں آیا ۔ کنوینئر کمیٹی نے کہاکہ وزارت قانون کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر کرپشن ہوئی ہے تو بتائیں ۔ ریاض فتیانہ نے کہاکہ وزارت جواب دے کہ کیا ٹینڈر دیتے وقت پیپرا رولز کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ او پی ایف حکام کے مطابق زمینوں پر قبضے تھے جس کی وجہ سے مخصوص کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا ،کمیٹی نے معاملے کو حل کرنے کیلئے 30 دن کا وقت دیدیا۔

موضوعات:



کالم



رانگ ٹرن


رانگ ٹرن کی پہلی فلم 2003ء میں آئی اور اس نے پوری…

تیسرے درویش کا قصہ

تیسرا درویش سیدھا ہوا‘ کھنگار کر گلا صاف کیا…

دجال آ چکا ہے

نیولی چیمبرلین (Neville Chamberlain) سرونسٹن چرچل سے قبل…

ایک ہی راستہ بچا ہے

جنرل احسان الحق 2003ء میں ڈی جی آئی ایس آئی تھے‘…

دوسرے درویش کا قصہ

دوسرا درویش سیدھا ہوا‘ کمرے میں موجود لوگوں…

اسی طرح

بھارت میں من موہن سنگھ کو حادثاتی وزیراعظم کہا…

ریکوڈک میں ایک دن

بلوچی زبان میں ریک ریتلی مٹی کو کہتے ہیں اور ڈک…

خود کو کبھی سیلف میڈنہ کہیں

’’اس کی وجہ تکبر ہے‘ ہر کام یاب انسان اپنی کام…

20 جنوری کے بعد

کل صاحب کے ساتھ طویل عرصے بعد ملاقات ہوئی‘ صاحب…

افغانستان کے حالات

آپ اگر ہزار سال پیچھے چلے جائیں تو سنٹرل ایشیا…

پہلے درویش کا قصہ

پہلا درویش سیدھا ہوا اور بولا ’’میں دفتر میں…