بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

’’ سازشی نظریئے نے ڈاکٹرز کو خطرات سے دوچار کر دیا ‘‘ زہر کے ٹیکے کے عوض ڈالر ز لینے کا الزام ، مریضوں کی اکثریت کرونا کا علاج ہسپتالوں سے کیوں نہیں کروا رہی ؟ سینئر صحافی عمر چیمہ کےتہلکہ خیز انکشافات

datetime 30  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک سازشی نظریئے نے ڈاکٹرز کو خطرات سے دوچار کردیا ہے۔ ان پر زہر کے ٹیکے کے عوض ڈالرز لینے کا الزام لگایا جارہا ہے جس کی وجہ سے اکثریت اسپتال میں کورونا وائرس کا علاج نہیں کروارہی۔روزنامہ جنگ میں شائع سینئر صحافی عمر چیمہ کی رپورٹ کے مطابق ایک سازشی نظریئے کی وجہ سے ڈاکٹرز خطرات سے دوچار ہوگئے ہیں۔ کورونا وائرس کی

وجہ سے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز) میں جاں بحق ہونے والے ایک 16 سالہ نوجوان کی ماں نے ڈاکٹرز کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے ایک ڈاکٹر کے منہ پر چار بارتھوکتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ہی ان کے جواں سالہ بیٹے کی موت کا ذمہ دار ہے۔جس نے مبینہ طور پر بیرون ملک سے آنے والے ڈالرز کے لیے اس کے بیٹے کی جان لی۔ دی نیوز نے جب اس ڈاکٹر سے پوچھا تو اس کا کہنا تھا کہ اس وقت میری جیب میں صرف 40 روپے تھے اور میری تنخواہ ملنے میں ابھی 10 روز باقی تھے۔ جب کہ مجھ پر بیرون ممالک سے ڈالرز لے کر کورونا وائرس میں مبتلا مریضوں کو مارنے کا الزام لگایا جارہا تھا۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ مجھ پر تھوکے جانے کے باوجود میں نظریں جھکا کر خاموش کھڑا رہا۔ یہ سازشی نظریہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس نظریئے کے مطابق، ڈاکٹرز کورونا وائرس میں مبتلا مریضوں کو زہر کا انجکشن لگا رہے ہیں کیوں کہ اس کے بدلے میں حکومت کو بیرون ممالک سے ڈالرز مل رہے ہیں۔ یہ نظریہ صرف عام لوگوں تک محدود نہیں ہے بلکہ خواص میں بھی بہت سے لوگ اس نظریئے کے حامل ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے جاں بحق ہونے والے ایک ایم پی اے کے گھروالے اب بھی یہ مانتے ہیں کہ انہیں انجکشن دے کر قتل کیا گیا ہے۔ حال ہی میں نشتر اسپتال ملتان کے ایک ڈاکٹر کو کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کرجانے والے ایک مریض کے بیٹے کا پیغام ملا ہے۔ جس میں لکھا تھا کہ اس ڈاکٹر کو پہچانیئے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے والد کی تصویر لگائی اور کہا کہ

یہ میرے والد ہیں۔ پیغام میں مزید لکھا کہ یہ میرے والد ہیں جو انجکشن کی وجہ سے اس دنیا میں نہیں رہے۔ اس پیغام سے طبی عملے میں خوف وہراس پھیل گیا۔ پمز اسپتال کے ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ہم میں سے اکثریت اپنے طور پر بھرپور کوشش کرتی ہے، لیکن عوام کا ہمارے پیشے سے

اعتماد اٹھ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اکثر عوام کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے کہ ہم جو بھی کررہے ہیں وہ مریض کے لیے بہتر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپتال میں بہت سے ایسے مریض آتے ہیں جن کی حالت بہت بری ہوتی ہے۔ اسی طرح کا ایک مریض کچھ روز قبل لایا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…