پی آئی اے طیارہ حادثہ ، مسافر طیارہ کتنا پرانا تھا ؟ ترجمان نے حقیقت بیان کر دی

  جمعہ‬‮ 22 مئی‬‮‬‮ 2020  |  15:51

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)ائیر پورٹ کے قریب لاہور سے آنے والا پی آئی اے کا مسافر طیارہ گرکر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں تقریباً 100 افراد جاں بحق ہوگئے۔ذرائع کے مطابق لاہور سے کراچی آنے والی قومی ائیرلائن کی پرواز ائیرپورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ ہوگئی۔ نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق ترجمان پی آئی اے نے بتایا کہ قومی ائیرلائن کی پرواز پی کے 8303 کو لینڈنگ کے وقتحادثہ پیش آیا اور طیارہ 2 بجکر 37 منٹ پر تباہ ہوگیا۔ترجمان نے بتایا کہ طیارہ زیادہ پرانا نہیں تھا اور اس کی عمر تقریباً 10 سے 11


سال تھی اور طیارہ مکمل مینٹین تھا لہٰذا تکنیکی خرابی کے بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔ذرائع کا بتانا ہےکہ سول ایوی ایشن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پی آئی اے کی پرواز 8303 کا لینڈنگ سے ایک منٹ قبل کا ائیرٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎