منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

کووِڈ 19 کے مریض کی لاش نہ دینے پر مشتعل ہجوم کی جناح ہسپتال میں توڑ پھوڑحملے کے بعد شیشوں کے ٹکڑے، فرنیچر اور پنکھے زمین پر پڑے تھے ، کاؤنٹر پر نصب شیشے کی کھڑی بھی توڑ دی گئی، ویڈیو منظر عام پر آگئی  

datetime 15  مئی‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)کورونا وائرس سے متاثرہ ایک مریض کی ہلاکت کے بعد ایک درجن سے زائد افراد نے کراچی کے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر(جے پی ایم سی) کے آئیسولیشن وارڈ میں گھس کر توڑ پھوڑ کی،اشتعال انگیزی اس وقت ہوئی جب ہسپتال انتظامیہ نے مریض کے اہلِ خانہ کو لاش دینے سے انکار کردیا۔مشتعل ہجوم مریض کی میت وارڈ سے لے جانے میں کامیاب رہے تھے

تاہم موقع پر رینجرز اہلکاروں کے پہنچنے کے بعد اسے واپس وارڈ میں لانا پڑا۔آئیسولیشن وارڈ میں کووِڈ 19 کے مریض زیر علاج تھے، ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ حملے کے بعد شیشوں کے ٹکڑے، فرنیچر اور پنکھے زمین پر پڑے ہیں جبکہ کاؤنٹر پر نصب شیشے کی کھڑی بھی توڑ دی گئی۔جے پی ایم سی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ ہسپتال میں پولیس اور رینجرز کو بلانے کے بعد کم از 8 سے9 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق ایک 60 سالہ شخص کو ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس سے تشویشناک حالت میں جناح ہسپتال لایا گیا تھا انہیں سانس کی تکالیف، بخار اور کھانسی تھی اور ان کے تیمارداروں سے متعدد مرتبہ ان کی حالت کے بارے میں مشاورت کی گئی۔انہوںنے کہاکہ تیمارداروں کو بالائی منزل پر جانے نہیں دیا گیا جہاں مریض زیر علاج تھا لیکن ان کے انتقال کے بعد ہسپتال کے باہر ایک بڑا مجمع لگ گیا اور پھر انہوں نے وارڈ میں گھس کر توڑ پھوڑ کی۔انہوں نے بتایا کہ جب یہ واقعہ ہوا اس وقت 8 اسٹاف نرسز، متعدد ڈاکٹرز 2 وارڈ بوائے، ایک ریشیپنسٹ، 2 صفائی کرنے والے، چوکیدار اور سیکیورٹی کا عملہ موجود تھا۔ڈاکٹر سیمی جمالی نے کہا کہ واقعہ میں کوئی فرد زخمی نہیں ہوا لیکن ہجوم نے دروازے، کھڑکیاں، چھت کے پنکھے، میزیں، کمپیوٹرز اور جو کچھ ان کے ہاتھ لگا توڑ دیا۔انہوںنے کہاکہ جب کووِڈ 19 کا کوئی مریض انتقال کرجاتا ہے تو ہسپتال انتظامیہ صحت کے ضلعی افسر کو بلاتی ہے جو ایدھی کے عملے کے ذریعے میت کے غسل اور تدفین کا انتظام کرتے ہیں

اور دور دراز قبرستان میں میت کو دفنایا جاتا ہے۔ڈاکٹر سیمی جمالی نے کہا کہ میں تجویز دوں گی کہ ہمیں مرنے والے کے اہلِ خانہ کو اسے دیکھنے کی اجازت نہ دینے کی پالیسی پر دوبارہ سوچنا چاہیے، وہ کسی کے پیارے ہیں، اہلِ خانہ کو مکمل حفاظتی لباس مہیا کر کے میت کا غسل اور تدفین کرنے دی جائے،اس صورتحال کو ہر ایک کے لیے جذباتی طور پر چیلنجنگ کہتے ہوئے انہوںنے کہاکہ میں عوام سے

درخواست کروں گی کہ اس طرح ہسپتالوں میں توڑ پھوڑ نہ کریں کیوں کہ ڈاکٹرز آپ کیلئے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اس سلسلے میں صدر کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) ارشد آفریدی نے بتایا کہ وقوعہ کے بعد 8 افراد کو حراست میں لیا تھا کہ تاہم پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا اور اس سلسلے میں ہسپتال انتظامیہ کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔دوسری جانب ڈاکٹر سیمی جمالی سے

جب ایف آئی آر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ پولیس چاہتی ہے کہ ہسپتال انتظامیہ شکایت درج کروائے، ’میں شکایت کیوں درج کرواؤں جبکہ یہ ایک سرکاری ہسپتال ہے اور یہاں سیکیورٹی فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، اگر میں نے ایف آئی آر درج کروائی تو کل کو یہ افراد انتقام کے لیے مجھ پر حملہ کریں گے تو کون ذمہ دار ہوگا۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…