جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

مولانا فضل الرحمان نے معیشت کی بہتری کے حکومتی دعوؤں کو اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ اور عمران خان کو جھوٹ کا ماسٹر قراردیدیا، شدید تنقید

datetime 6  دسمبر‬‮  2019 |

سکھر(این این آئی)جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن نے موجودہ حکومت کی پندرہ ماہ کی کارکردگی کو بد ترین، معیشت کی بہتری کے حکومتی دعوؤں کو اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ اور عمران خان کو جھوٹ کا ماسٹر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دعویٰ عوام کیساتھ مذاق کے سواء کچھ بھی نہیں ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جے یو آئی کے مرکزی نائب امیر مولانا عبدالقیوم ہالیجوی، مولانا عبید اللہ بھٹو ابن آزاد، سندھ کونسل کے ممبر مولانا عبدالحق مہر کیساتھ ٹیلی فون پر خصوصی گفتگو کے دوران کیا

سکھر سے مقامی ترجمان مولانا عبدالحق مہر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ جعلی مینڈیٹ سے بنائی گئی حکومت کو روز اول سے جھوٹے وعدوں اور بے بنیاد دعوؤں کے زریعے چلانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے، حقیقت اس کے بر عکس ہے کہ معشیت روز بگڑتی جا رہی ہے مہنگائی، بے روزگار بے پناہ بڑھ چکی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کا جینا دوبھر ہو گیا ہے کاروبار مکمل طور پر تباہ ہیں، انڈسٹریز بند پڑی ہیں، معشیت کی بہتری کا دعویٰ لوگوں کو منہ چڑانے والی بات ہے، مولانا فضل الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ اگر معشیت بہتر ہو رہی ہے تو عوام تک اس کے فوائد کیو ں نہیں پہنچ رہے ہیں، مہنگائی و بے روزگاری اور بحران کم ہونے کے بجائے کیوں بڑھ رہے ہیں، جھوٹ پر کار بند حکومت یو ٹرن سرکار نے اپنے دعوے کے برعکس ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضے لیکر بھی عوام کو اگر کوئی ریلفی نہیں دے سکتی تو اس سے بڑی ناکام اور کیا ہوگی، فرعون صفت حکمران خزانے پر سانپ بن کر بیٹھے ہوئے ہیں یہ مدینہ کی نہیں بلکہ فرعون کی حکمرانی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ کپتان کی حکومت نے پندرہ ماہ میں جو گند کیا ہے 70سال میں اسکی مثال نہیں ملتی، حکمراں پانچ سال تو کیا پچاس سال میں بھی اسکا ازالہ نہیں کرسکتے، مولانا فضل الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی ترجمانوں اور وزراء بھی جھوٹ بولنے کی پی ایچ ڈی کئے ہوئے ہیں، وہ بھی اپنے کپتان کے جھوٹ کو سچ بنانے کیلئے طوفان بدتمیزی برپا کئے ہوئے ہیں مگر اس طرح حقائق کو بدلہ نہیں جاسکتا

انہوں نے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ہمارے آزادی مارچ کے بعد حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے حکمران اپنے جلد انجام کو پہنچنے والے ہیں، ہمارے آزادی مارچ نہ ہونے کی جھوٹی پیشنگوئی کرنے والے عاقبت نا اندیش وزراء اب کس منہ سے اسکی ناکام اور حکومت کے نا جانے کی باتیں کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ڈوبتا ہوا اقتدار دیکھ اب حکمرانوں کو پارلیمنٹ کی اہمیت اور توقیر کا احساس ہو گیا ہے، مولانا فضل الرحمن نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے سنگین سیاسی، معاشی و اقتصادی بحران کے بعد اب ملک میں آئینی بحران کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اب اس حکومت کو مزید مہلت نہیں دی جا سکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…