اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

حمزہ شہباز اور ایس پی کے مابین تلخ کلامی کس بات پر ہوئی؟ لیگی کارکن بھی آپے سے باہر ہو گئے

datetime 16  اکتوبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کیس میں پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 30 اکتوبر تک توسیع کر دی جبکہ مسلم لیگ(ن) کے صدر محمد شہباز شریف کی حاضری سے معافی کی درخواست منظورکر لی گئی،کمرہ عدالت کی طرف جاتے ہیں حمزہ شہباز اور ایس پی کے مابین تلخ کلامی بھی ہوئی جبکہ پولیس کی جانب سے دو صحافیوں پر بھی تشدد کیا گیا۔حمزہ شہباز کوجیل سے لا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔

دوران سماعت عدالت کے استفسار پر نیب پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ ابھی حمزہ شہباز کے خلاف تحقیقات چل رہی ہیں،جوں ہی تحقیقات مکمل ہوں گی ریفریس دائر کردیا جائے گا۔جس پرعدالت نے آئندہ سماعت پر ریفرنس سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14روز کی توسیع کردی۔عدالت میں ملزم فواد حسن فواد، احد چیمہ، شاہد شفیق اور منیر ضیا ء سمیت دیگر اورریفرنس کے دوگواہ شکیل احمد اور ثاقب الرحمن پیش ہوئے۔ دوران سماعت شہباز شریف کے وکیل نے حاضری معافی کی درخواست دائر کی او ربتایا کہ شہباز شریف بیمار ہیں اورکمر درد کی وجہ سے عدالت پیش نہیں ہو سکتے، شہباز شریف کی کمر کے مہرے ہلے ہوئے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ہمارے ہاں اکثر لوگ اس بیماری کا شکار ہیں۔شہباز شریف کے وکیل نے کہاکہ شہباز شریف کی عدم موجودگی کے باوجود کارروائی میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔اس موقع پر گواہ ثاقب الرحمن کے بیان پر جرح کی گئی۔ثاقب الرحمان نے کہاکہ نیب کے دفتر میں بطور گواہ شامل تفتیش ہوا، نیب کی تمام مطلوبہ دستاویزات تفتیشی افسر کو پیش کیں،یہ درست نہیں ہے کہ میں نے بیان قلمبند کرواتے ہوئے حقائق چھپائے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30اکتوبرتک ملتوی کرتے ہوئے حمزہ شہبازکوپیش ہونے کی ہدایت کر دی۔قبل ازیں حمزہ شہباز میڈیا کے نمائندوں سے بات کرنے لگے تو ایس پی نے عقب سے آکر انہیں روکنے کی کوشش کی جس پر حمزہ شہباز سیخ پا ہوگئے۔جس پر حمزہ شہباز نے کہا کہ آپ پیچھے ہو جائیں مجھے نہ بتائیں میں نے کیا کرنا ہے۔مسلم لیگ(ن) کی کال پر پارٹی رہنما اور

کارکنان اظہار یکجہتی کیلئے احتساب عدالت پہنچے اور قیادت کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ احتساب عدالت کی طرف جانے کی کوشش میں لیگی کارکنوں اور پولیس اہلکاروں میں تلخ کلامی اور ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ پولیس کی جانب سے کوریج کے لئے آنے والے نجی ٹی وی کے رپورٹر او رخبر رساں ادارے کے فوٹو گرافر کو تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔ پولیس کی طرف سے حمزہ شہباز اور خواجہ برادران کے کیسز کی سماعت کے پیش نظر راستوں کو کنٹینرز، خاردار تاریں اور بیرئیر لگا کر بند کر دیا گیا جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…