بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

نئے مالی سال میں مہنگائی کی رفتار بھی مزید تیز ہوگئی،کھانے پینے اور روزمرہ استعمال کی31بنیادی اشیاء مزید مہنگی،عوام کے ہوش اُڑ گئے

datetime 19  جولائی  2019 |

کراچی(این این آئی)نئے مالی سال میں مہنگائی کی رفتار بھی مزید تیز ہوگئی ہے،ہفتے کے دوران کھانے پینے اور روزمرہ استعمال کی31بنیادی اشیاء مزید مہنگی ہو گئیں، ہفت روزہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 15 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی۔

ادارہ شماریات کے مطابق جولائی کے دوسرے ہفتے کے دوران ہفت روزہ بنیاد پر مہنگائی میں اضافے کی اوسط شرح 15.01 فیصد تک پہنچ گئی، گزشتہ سال یہ شرح 4.2فیصد تھی، ہفتے کے دوران مارکیٹ میں آلو، لہسن، چینی، آٹا، گھی، دال ماش، دال مونگ، دال مسور، دال چنا، مٹن، بیف، دودھ اور دہی کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔روزمرہ استعمال کی اشیاء میں سے گیس، کپڑا، صابن، انرجی سیور اور جلانے کی لکڑی بھی مہنگی ہوگئی۔ مسلسل مہنگائی کے باعث مارکیٹ میں کھانے پینے اور روز مرہ استعمال کی 53 بنیادی اشیاء میں سے 46 اشیاء گزشتہ سال کے مقابلے میں 91 فیصد تک مہنگی ہو چکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گیس گزشتہ سال سے 91 فیصد مہنگی جبکہ لہسن گزشتہ سال سے 74 فیصد مہنگا ہے، دال مونگ کی قیمت 49 فیصد، پیاز کی 44 فیصد، چینی کی 31 فیصداور دال ماش کی قیمت 20 فیصد زیادہ ہوچکی ہے، سگریٹ گزشتہ سال کے مقابلے میں 48 فیصد مہنگا جبکہ کپڑا 20 فیصد مہنگا ہو چکا ہے۔ فتے کے دوران کھانے پینے اور روزمرہ استعمال کی31بنیادی اشیاء مزید مہنگی ہو گئیں، ہفت روزہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 15 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی۔ ادارہ شماریات کے مطابق جولائی کے دوسرے ہفتے کے دوران ہفت روزہ بنیاد پر مہنگائی میں اضافے کی اوسط شرح 15.01 فیصد تک پہنچ گئی، گزشتہ سال یہ شرح 4.2فیصد تھی، ہفتے کے دوران مارکیٹ میں آلو، لہسن، چینی، آٹا، گھی، دال ماش، دال مونگ، دال مسور، دال چنا، مٹن، بیف، دودھ اور دہی کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…