ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

چینی قونصل خانے پر حملے کے دوران کماندو ایکشن میں نظر آنے والے وفاقی وزیرفیصل واوڈا خود پر تنقید کرنے والوں کیخلاف برس پڑے،وجہ بتادی

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(این این آئی) چینی قونصل خانے پر حملے کے دوران کماندو ایکشن میں نظر آنے والے وفاقی وزیرفیصل واوڈا خود پر تنقید کرنے والوں کے خلاف کھل کربرس پڑے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹرپیغام میں انہوں نے کہاکہ اپنے دفاع میں لائسنس یافتہ استعمال کرنا میراحق ہے۔ جنہیں میرے وہاں ہونے سے مسئلہ تھا ، میری جانب سے وہ جہنم میں جائیں۔

گزشتہ روز چینی قونصلیٹ پر حملے کی اطلاع ملنے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا کی دبنگ انٹری کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔نائن ایم ایم کی پستول کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچنے والے فیصل واوڈا نے پہنچتے ہی بلٹ پروف جیکٹ پہنی تھی۔مشہور زمانہ فلم ریمبو کے کمانڈر کی یاد تازہ کرنے والے واوڈا سوشل میڈیا صارفین کیلئے دلچسپ موضوع بن گئے جس پر انہوں نے رنگا رنگ تبصرے کیے۔صارفین کے تبصروں کا نچوڑ یہ تھا کہ فیصل واوڈا کا جذبہ حب الوطنی قابل ستائش ہے لیکن شاید وہ یہ بھول گئے کہ بطوروفاقی وزیربرائے آبی وسائل ان کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ پانی کی قلت کا مسئلہ حل کرنے سے متعلق اقدامات بروئے کار لائیں کیونکہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔شدید تنقید پراپنے ردعمل میں فیصل واوڈا نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ میں اسی علاقے میں تھا جب مجھے اطلاع ملی جس کے بعد میں نے متعلقہ اداروں کو بھی اطلاع دی ۔ ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے میں دورنہیں بھاگا، اپنے دفاع میں لائسنس یافتہ استعمال کرنا میراحق ہے۔ کم از کم میں کی بورڈز کے پیچھے چھپنے اور لغویات بکنے والے بہت سے بزدل افراد کی طرح نہیں ہوں۔ایک اور ٹویٹ میں فیصل واوڈا نے لکھا کہ میں تمام لفافہ صحافیوں اور سوشل میڈیا کے بزدلوں کو جانتا ہوں جن کا کام صرف تنقید کر کے دبکے رہنا ہے۔ بطور وفاقی وزیر یہ میرا کام تھا کہ میں وفاقی ایجنسیوں کی مدد کرتا۔ جب وطن کو ضرورت ہو تو میں بھاگتا نہیں ہوں، جنہیں میرے وہاں ہونے سے مسئلہ تھا ، میری جانب سے وہ جہنم میں جائیں۔فیصل واوڈا نے تنقید کرنے والوں پر اظہار افسوس کرتے ہوئے لکھا کہ کم از کم میں آپریشن کے آغاز سے اختتام تک وہاں موجود تو تھا، کیا وہاں کوئی میڈیا رپورٹر تھا؟ ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…