ہفتہ‬‮ ، 07 مارچ‬‮ 2026 

وزیراعظم نے سعودی عرب میں پاکستان کو قلاش ملک کے طور پر پیش کیا ،ثالثی کا کردار ادا کرنے کی بات سعودیہ سے دوستی کے تقاضوں کے منافی اور فرار ہے ،اہم سیاسی شخصیت نے کھری کھری سنادیں

datetime 25  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے سعودی عرب میں ہونے والی کانفرنس میں ایک قلاش ملک کے طور پر پیش کیا ، عمران خان کی روایت ہتھیار ڈالنے کی ہے ہتھیار اٹھانے کی نہیں ،کرپٹ لوگوں کو ساتھ ملا کر کونسے احتساب کی بات کر رہے ہو ،جہانگیر ترین ،علیم خان پرویز خٹک انکی پارٹی کے صف اول میں ہیں ،

ڈاکے کا مینڈیٹ لیکر حکومت کرنے والے مخالفین کو دھمکیاں نہ دیں ،ابھی تک اے پی سی تجویز کے مرحلے میں ہے ، عمران خان کے اوسان خطا ہوگئے ہیں ،اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ رابطے آخری مراحل میں ہے ،تمام جماعتیں ایک پلیٹ فارم سے اپوزیشن کا کردار ادا کریگی ،ثالثی کا کردار ادا کرنے کی بات سعودیہ سے دوستی کے تقاضوں کے منافی اور فرار ہے ،کس نے این آر او مانگا ،حکومت واضح کرے، این آر او ہمیشہ حکمران دیتے ہیں، اپوزیشن نہیں مانگتی۔جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات آپ نے عمران خان کی باتیں سنی ہونگی ، ابھی تک اے پی سی تجویز ہے مرحلے میں ہے اور انکے اوسان خطا ہو گئے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ وزیراعظم کی گفتگو کا لہجہ ایسا ہے جیسے قوم کو فتح کیا ہو ،ہم عمران خان کی خاندانی روایت کو جانتے ہیں ،انکی روایت ہتھیار ڈالنے کی ہے ہتھیار اٹھانے کی نہیں ،ا’نکا ساتھی جنرل عمر تھا ، انکا ساتھی اسد عمر ہے ،انجام گلستان کیا ہوگا۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ احتساب کی بات کرتے ہیں ، صوبائی احتساب کمیشن انہوں نے خود ناکام کیا ،کے پی احتساب کمیشن نے ان کے لوگوں پر ہاتھ ڈالا تو اسکو تحلیل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ جہانگیر ترین ،علیم خان پرویز خٹک انکی پارٹی کے صف اول میں ہیں ،کرپٹ لوگوں کو ساتھ ملا کر کونسے احتساب کی بات کر رہے ہو۔ انہوں نے کہاکہ احتساب کا عمل تین دھائیوں سے جاری ہے ، سیاسی مخالفین کو احتساب کے نام پر نشانہ بنایا گیا ،یہ احتساب اسٹیبلشمنٹ کی سیاست کا دوسرا نام ہے۔

انہوں نے کہاکہ وہ اپنی سیاست کھیلیں ہم اپنا کام کریں گے ،ڈاکے کا مینڈیٹ لے کر حکومت کرنے والے مخالفین کو دھمکیاں نہ دیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ دو مہینوں کے اندر مہنگائی کہاں پہنچ گئی ہی جب گزشتہ حکومت نے اقتدار چھوڑا تو زرمبادلہ کے ذخائر 24 ارب ڈالر تھے ، آج زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پانچ سالوں میں ڈالر کی قیمت مستحکم رہی ،ڈالر کی قیمت چوبیس گھنٹوں میں دس دس روپے بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ وزیرخزانہ کہتے ہیں سوئس بینکوں پر دو سو ارب ڈالر والی بات مذاق تھی۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ رابطے آخری مراحل میں ہے ،تمام جماعتیں ایک پلیٹ فارم سے اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ وزیراعظم نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے سامنے ایک کرپٹ ملک کے طور پر پیش کیا ،اس طرح کی باتوں کے بعد کونسا سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری کا رسک لے گا۔سربراہ جے یو آئی نے کہاکہ حکومت کے پاس سرکاری بلز دینے کے بھی پیسے نہیں ،

یوٹیلٹی سٹورز کے 14 ہزار ملازمین سے روزگار چھین لیا گیا ،ملک کے غریب طبقے کو بے روزگار کیا جارہا ہے ،ایک کروڑ نوکریوں کی بات مذاق ہے۔ سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ان کو صرف دو ماہ ہوئے ہیں اور رونا شروع کردیاہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ بڑے بول اور گیڈر بھبھکیوں سے حکومت یا ملک نہیں چلتے یا چلائے جاتے۔انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس میں جس طرح کی بات پاکستان کے حوالے سے بات کی گئی ایسا کوئی احمق بھی نہیں بات کرتا ،

اپنے میلے کپڑے لوگوں کے سامنے دھونے سے کوئی ہمدردی نہیں ملتی۔انہوں نے کہاکہ جیسی صورتحال عمران خان نے پیش کی اب کوئی خیرات دے دے تو بات ورنہ کوئی اعتماد نہیں کرے گا۔سربراہ جے یو آئی نے کہاکہ ابھی تک مولانا فضل الرحمان کنٹینر سے نہیں اترااور بار بار اسی طرح کی بات کرتا ہے ،وہ اپنی طرح ہمیں بھی بے وقوف سمجھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملکی جمہوری نظام کے تحفظ کے لیے ایکا کریں اور ملک کو بچائیں گے۔ سعودی عرب کی امداد کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ یمن میں فوجیں نہ بھیجنے کی مخالفت پی ٹی آئی نے کی تھی ،

سعودیہ پاکستاں کا مہربان ہے، وہ انکی وجہ سے نہیں کچھ اور لوگوں کی وجہ سے ہمارے ساتھ تعاون کرتا ہے سعودیہ کی تو مہربانی ہے، لیکن ہماری اپنی صلاحیتیں کہاں گئیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پہلے ملک کو چلانے کی صلاحیت پیدا کریں ،بین الاقوامی معاملات بعد کی بات ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ثالثی کا کردار ادا کرنے کی بات سعودیہ سے دوستی کے تقاضوں کے منافی ہے اور فرار ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کس نے این آر او مانگا ،حکومت واضح کرے، این آر او ہمیشہ حکمران دیتے ہیں، اپوزیشن نہیں مانگتی۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ اگر حلف نہ اٹھاتے تو صورتحال اور ہوتی اور لائحہ عمل بھی اور ہوتا ،

اب حلف اٹھانے کے بعد تقاضے مختلف ہوچکے ہیں ،اب اپوزیشن سے متفقہ طور پر فیصلہ کرے گی کہ فیصلہ کیا کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ تنقید کرنے والا سنجیدہ ہوتو بات سنجیدہ کی جاتی ہے، مسخرہ ہو تو جواب بھی مذاق میں ہی ہوتا ہے۔ میڈیا سے بات چیت کے دور ان مولانا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ایوان سے استعفے، ایوان کے باہر شدید احتجاج سمیت صحافیوں کے سوالوں میں چھپے مشوروں پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔صحافی نے سوال کیا کہ وزیر اعظم عمران خان کی کنٹینر اور کھانے کی پیشکش قبول ہے جس پر مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ عمران خان ابھی تک کنٹینر سے اترا نہیں ،اس نے کنٹینر اور احتجاج کرکے ملک کا بیڑا غرق کیا ،

ہم نابالغ نہیں ہیں کہ ملک کا نقصان کریں۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ سعودی عرب کو غیر مشروط حمایت دینی چاہیے۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کی تقسیم ہوئی اب وہیں تو نہیں کھڑے رہیں گے ،نوازشریف نے دوتین دن اے پی سی تاریخ طے کرنے کیلئے مانگے ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ سیاست میں آنے کے بعد پھر جیل اور گھر میں فرق نہیں ہوتا ،تخت کے راستے میں تختہ بھی آتاہے، جیل بھی آتی ہے، مشکلیں بھی آتی ہیں ،سیاست دان ان مشکلوں سے نہیں ڈرتے، نواز شریف یہی بھگت رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج بھینسیں، کل اونٹنیاں اور گھوڑوں کے تذکرے بھی سن چکے اور دیکھ چکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آج اپوزیشن سرنڈر ہوجائے تو سارے کرپشن کے معاملات حل ہو جائیں گے ،سیاستدانوں کا ماضی اچھا نہیں جس کا تذکرہ کیا جائے، خود نواز، زرداری اس سے اب گریزاں ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ مروجہ احتساب ناقابل اعتماد ہے اور صرف سیاسی انتقام ہے، جو گھٹنے نہیں ٹیک رہے صرف انکے خلاف ہے جس کا مقابلہ کرینگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…