اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

پولیس کی طرف سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر نمبر 510 پر جرح مکمل،عوامی تحریک کے رہنماؤں نے ہی اپنے کارکنان کو قتل کیا،حیرت انگیز الزام عائد

datetime 7  جولائی  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک) سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں پولیس کے جمع کروائے گئے چالان نمبر510 پر پولیس وکلاء کی جرح مکمل ہو گئی ہے، پولیس نے ایک بار پھر الزام لگایا ہے کہ خرم نواز گنڈاپور اور دیگر کارکنان نے فائرنگ کر کے عوامی تحریک کے کارکنان کو قتل اور زخمی کیا، پاکستان عوامی تحریک کے وکلاء نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ، مستغیث جواد حامد، سردار غضنفر حسین ایڈووکیٹ اور شکیل ممکا ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پولیس کا یہ الزام اور ایف آئی آر510 قانون کے ساتھ مذاق ہے،

17 جون 2014 ء کے دن پولیس نے جس طرح سیدھی فائرنگ کر کے عوامی تحریک کے کارکنان کو شہیدکیا، ان سارے مناظر کی ویڈیو فوٹیج موجود ہے، انہوں نے کہا کہ عدالت میں ہم یہ ثبوت پیش کر چکے ہیں اور اپنی باری پر جرح میں بھی یہ سارے حقائق بے نقاب کرینگے کہ قتل عام کی یہ واردات منصوبہ بندی کے مطابق ہوئی اور اس کے پس پردہ شریف برادران اور ان کے حواری ہیں۔جواد حامد نے کہا کہ پولیس کا یہ موقف کہ عوامی تحریک کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ہی اپنے کارکنوں کو قتل کیا ہے ایک مضحکہ خیز الزام ہے، حقیقت یہ ہے کہ پولیس نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تفتیش کیلئے جو جے آئی ٹی بنائی تھی اس جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایف آئی آر نمبر 510 ناقص ہے، اس میں مقتولین کے ورثاء چشم دید گواہان، مضروبین کی گواہی قلمبند نہیں کی گئی اور نہ ہی وہ اسلحہ پیش کیا گیا جو 17جون 2014 ء کے دن استعمال ہوا، ان تحفظات کے ساتھ جے آئی ٹی نے اس ایف آئی آر کو خارج کرنے کا حکم دیا مگر پولیس نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں ایف آئی آر نمبر 510خارج کرنے کی بجائے جس صفحہ پر ان تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا وہ اختلافی نوٹ ہی جے آئی ٹی رپورٹ سے علیحدہ کر دیا اور نامکمل رپورٹ انسداد دہشتگردی کی عدالت میں جمع کروائی گئی، نامکمل رپورٹ جمع کروانا درحقیقت جعل سازی اور توہین عدالت ہے، ہم اس کی نشاندہی کر چکے ہیں، جواد حامد نے کہا کہ شہدائے ماڈل ٹاؤن کے انصاف کیلئے قانونی جنگ لڑرہے ہیں اور تمام ثبوت عدالت میں جمع کروادئیے ہیں، انہوں نے کہا کہ اصل قاتل شریف برادران ہیں جنہوں نے منصوبہ بندی کی، ان کی طلبی کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ میں فیصلہ محفوظ ہے ہم اس فیصلے کے سنائے جانے کے منتظر ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ماسٹر مائنڈ شریف برادران اوران کے حواری طلب کیے جائینگے ۔ان کی طلبی انصاف کی فراہمی کیلئے ضروری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…