منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

اقتصادی راہداری منصوبے کی وجہ سے پاکستان کے چینی قرض میں ڈوب جانے کی افواہوں پر چین کا ردعمل بھی سامنے آگیا،کتنا سود لیاجائیگا؟ دوٹوک اعلان

datetime 19  جون‬‮  2018 |

کنمنگ(آئی این پی/شِنہوا)پاکستان اور چین ۔جنوی ایشیاء تعاون فورم (سی ایس اے سی ایف)صدر شی جن پھنگ کے مشترکہ تقدیر کے نظریے پر عمل درآمد کے علاوہ علاقائی امن وخوشحالی کے فروغ کے لیے مل جل کر کام کریں گے۔ یہ بات صوبہ ہی نان کے خارجہ امور دفتر کے ڈائریکٹر جنرل لی جمنگ نے سی ایس اے سی ایف کے پہلے اجلاس کے موقع پر ایک انٹرویو میں بتائی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے چین میں پاکستان کے اعلیٰ سطح کے سفارتکار کے ساتھ ذاتی ملاقات کی ہے

اور بلاشبہ اس فورم سے چین اور پاکستان کے درمیان بھی تعلقات پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیلٹ وروڈ منصوبہ (بی آر آئی)سے پاکستان اور دوسرے ممالک جو بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے رقم کی فراہمی کے لیے چین سے رقم قرض لیتے ہیں۔قرضے کا کوئی بحران پیدا نہیں ہوگا۔اس نقطہ چینی کا جواب دیتے ہوئے ۔ ممکن ہے کہ بی آر آئی پاکستان اور میانمر جو ہمسایہ ممالک کے ساتھ چین کو ملانے والے روڈ وریل منصوبوں کے لیے رقم کی فراہمی کے لیے چین سے قرض لیتے ہیں۔ جیسے کئی ممالک اور بیلٹ وروڈ روٹ سے متصل ممالک کے لیے قرضے کا جال بن سکتا ہے انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک کو دیے جانے والے چینی قرضوں کی شرح سود انتہائی کم ہے۔اس سے ان ممالک کی معیشت پر کوئی زیادہ دباؤ نہیں پڑے گا۔انہوں نے یقین دلایا کہ یہ منصوبے قابل عمل جائزے کے ذریعے احتیاط سے سکرین کیے جاتے ہیں۔ اور قرضے کے بحران کا پیدا ہونا ناممکن ہے انہوں نے مزید یقین دلایا کہ چین ممالک کی خودمختاری میں ناتو مداخلت کرے گا۔ اور نہ ہی بیلٹ ورڈ منصوبوں کے ذریعے علاقے پر بالا دستی حاصل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین اور دوسرے ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کا مقصد مشترکہ مفادات پیدا کرنا اور خوشحالی میں تبادلہ کرنا ہے۔تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت تمام شرکاء کی مشترکہ کوششوں سے پہلا چین ۔جنوبی ایشیا تعاون فورم انتہائی کامیابی سے اختتام پذیر ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…