جمعہ‬‮ ، 19 جون‬‮ 2026 

سینٹ نے مصیبت زدہ اور قید خواتین فنڈز ایکٹ 1996 میں ترمیم سمیت 13 بلوں کی متفقہ طور پر منظوری دیدی

datetime 11  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سینٹ نے مصیبت زدہ اور قید خواتین فنڈز ایکٹ 1996 میں مزید ترمیم اور بچوں کے تحفظ سے متعلق بل سمیت 13 بلوں کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ، سینٹ کی طرف سے منظورکردہ بلز میں 12 حکومتی اور ایک نجی بل ہے ، قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے میں چند دن باقی رہنے کے باعث چیئرمین سینیٹ نے بل قائمہ کمیٹیوں کو بھجوائے بغیر ہی ایوان سے منظور کروالئے،چئیرمین سینٹ نے ایک روز میں ایک درجن سے زائد بلز منظور کرنے پر ارکان کو مبارکباد بادی اور

کہا کہ سینٹ کی طرف سے کی گئی قانون سازی کا مقصد ملک اور عوام کا مفاد ہے۔ جمعہ کو ایوان بالا میں وزیر قانون چوہدری بشیر ورک نے مہاجرین کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے قانون وضع کرنے کا بل 2017 پیش کیا جس کی ایوا ن نے متفقہ طور پر منظوری دے دی ، اس بل کو قومی اسمبلی پہلے ہی منظور کر چکی ہے ، وزیر برائے انسانی حقوق ممتاز احمد تارڑ نے مصیبت زدہ اور قید خواتین فنڈ ایکٹ 1996 میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا جس کی ایوان نے منظوری دے دی ، وزیر برائے انسانی حقوق ممتاز احمد تارڑکم عمر بچوں کے لئے فوجداری نظام انصاف کے لئے قانون وضح کرنے کا بل پیش کیا جسے منظور کر لیا گیا ، وزیر مملکت رانا افضل نے ہاوس بلڈنگ فائنانس کارپوریشن ایکٹ 1952 کی تنسیخ کا بل پیش کیا جس کی ایوان نے منظوری دے دی ، وزیر برائے انسانی حقوق ممتاز تارڑ نے اسلام آباد میں بچوں کے تحفظ اور نگہداشت کے لئے قانون وضح کرنے کاپیش کی جس کی ایوان نے منظوری دے دی ، وزیر تعلیم بلیغ الرحمن نیادارہ برائے فن و ثقافت کے قیام کے لئے قانون وضح کرنے کا بل پیش کیا ایوان نے اس کی منظوری دے دی ، وزیر مملکت رانا محمد افضل نے فیڈرل ایمپلائز بینو ویلینٹ فنڈ اور گروپ انشورنس ایکٹ 1969 میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا جس کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ، پیپلز پارٹی کی سینیٹر سسی پلیجو نے تعزیرات پاکستان 1860 اور

مجموعی فوجداری 1898 میں مذید ترمیم کا بل پیش کیا جسے ایوان ننے متفقہ طور پر منظور کر لیا ،سینٹ نے ریکارڈ 13 بلوم کی منظوری دی ہے تمام بل اتفاق رائے سے منظور کیے گئے ہیں ، متفقہ طور پر منظور کئے گئے بلوم میں سے 12 حکومتی بل جبکہ ایک بل نجی تھا، اس موقع پر چیئرمین سینیٹ محمدصادق سنجرانی نے ریمارکس میں کہا آج سینیٹ آف پاکستان نے جتنی قانون سازی کی ہے

اس کا مقصد صرف اور صرف عوامی مفاد اور ملک کی ترقی ہے۔ان قوانین کے ثمرات پاکستان کی عوام کیلئے ہیں۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے اور آئین کے آرٹیکل 76 کے تناظر میں ، جس کے تحت قومی اسمبلی سے پاس کر دہ بل جو کہ سینیٹ کو بھیجے گئے ہیں اگر قومی اسمبلی کی آئینی مدت ختم ہونے سے پہلے پاس نہ ہوتے تو یہ بل ختم ہو جاتے۔ چیئرمین سینیٹ محمدصادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ سینیٹ آف پاکستان نے فیصلہ کیا کہ ان تمام بل کو پاس کیا جائے جس کیلئے بعض قواعد میں رعایت کی ضرورت تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…