جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

یہ کام کیوں کیا؟۔۔قصور کی ننھی زینب کے والد نے پاکستان کے بڑے نجی ٹی وی چینل اور برطانوی این جی او کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کر دیا

datetime 10  مئی‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی) پنجاب کے شہر قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی بچی زینب کے والد امین انصاری نے نجی ٹی وی کیخلاف مقدمہ دائر کرانے کا اعلان کردیا۔امین انصاری کی جانب سے یہ موقف نجی ٹی وی چینل کی جانب سے زینب قتل کیس پر ایک ٹیلی فلم بنانے کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ٹی وی چینل نے اس بارے میں مجھ سے اجازت لینے کی بھی زحمت نہیں کی ۔

میں کسی کو بھی ذاتی مفادات کی خاطر اپنی بیٹی کا نام استعمال کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔علاوہ ازیں امین انصاری نے زینب کا نام اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے پر برطانیہ کی ایک غیر سرکای تنظیم کے خلاف بھی مقدمہ دائع کرنے کا اعلان کیا۔ان کا کہنا تھا کہ میری بیٹی کے کیس کا اس این جی او سے کوئی تعلق نہیں، وہ محض پیسہ بنانے کے لیے زینب کے نام کا ستعمال کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ برطانوی این جی او نے قصور کا دورہ کیا اور ہمارے علاقے میں ویڈیو ریکارڈنگ کی جبکہ منیر شہید کالونی میں واقع زینب کے اسکول جا کر اساتذہ اور طلباء سے بھی ملاقات کی۔ٹی وی چینل کی طرح اس تنظیم نے بھی ان سے اجازت لینے کی زحمت گوارا نہیں کی۔واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں بچی زینب کو اغواء کیا گیا اور پھر ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد اسے قتل کردیا گیا تھا۔بعد ازاں پولیس کی سرتوڑ کوشش اوراہل خانہ کے تعاون سے زینب کے قتل میں ملوث عمران علی کو 3 ہفتے بعد گرفتار کیا گیا، جسے انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے سزائے موت بھی سنائی جاچکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…