جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

گرفتاری کے حکم پر سابق آئی جی عدالت سے فرار،نیب نے سابق ڈی ایس پی اورتین سابق سب انسپکٹروں کو گرفتار کرلیا،حیرت انگیز انکشافات

datetime 8  مئی‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)سندھ پولیس میں غیر قانونی بھرتیوں کے کیس میں درخواست ضمانت مسترد ہونے اور گرفتاری کے احکامات پر سابق آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی عدالت سے چکما دے کر فرار ہوگئے۔سندھ ہائیکورٹ میں سندھ پولیس میں غیر قانونی بھرتیوں کے کیس کی سماعت ہوئی

جس کے سلسلے میں سابق آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔نیب کی جانب سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزمان پر ایس آر پی حیدرآباد میں 881 غیر قانونی بھرتیوں کا الزام ہے، ملزمان میں غلام حیدر جمالی، فدا حسین شاہ، میر محمد اور غلام نبی سمیت دیگر شامل ہیں۔غلام حیدر جمالی کے وکیل شہاب سرکی نے اپنے دلائل میں کہا کہ بھرتیوں سے غلام حیدرجمالی کا کوئی تعلق نہیں، یہ بھرتیاں 2012 سے2015 کے درمیان ہوئیں، اس دور میں غلام حیدر جمالی آئی جی نہیں تھے لہٰذا غیر قانونی بھرتیوں کے ذمہ دار اس وقت کے آئی جی پولیس ہیں اس لیے ان کے مؤکل کو کیس میں ملوث کرنا بدنیتی ہے۔عدالت نے غلام حیدر جمالی کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے پر ان کی جانب سے سابق آئی جی سندھ سمیت 7 افسران کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے گرفتاری کا حکم دیا۔عدالت کی جانب سے گرفتاری کے حکم پر سابق آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی چکما دے کر فرار ہوگئے۔عدالتی حکم پر نیب نے سابق ڈی ایس پی میر محمد اریجو، سابق سب انسپکٹروں غلام رضا سولنگی، راجا اشتیاق اور غلام قادر کو گرفتار کرلیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…