راولپنڈی،قائد اعظم یونیورسٹی کی چیئر کا نام تبدیل کرکے تحریک لبیک یارسو ل اللہ پاکستان کا مطالبہ پورا کر دیا گیا

  جمعہ‬‮ 4 مئی‬‮‬‮ 2018  |  22:48

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) قائد اعظم یونیورسٹی کی چیئر کا نام تبدیل کرکے تحریک لبیک یارسو ل اللہ پاکستان کا مطالبہ پورا کر دیا گیا چار اطراف اذان، دورودہ و سلام سپیکر پر منظور کرانے پرمرکزی امیر تحریک لبیک یارسو ل اللہ پاکستان علامہ خادم حسین رضوی سر پر ست اعلیٰ پیر محمد افضل قادری، پیر سید عنایت الحق شاہ سلطانپوری، شیخ اظہر محمود، انجینئر حفیظ اللہ علوی، ڈاکٹر شفیق امینی، علامہ وحید نور،مولانا فاروق الحسن سمیت تمام قائدین کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کروڑوں مسلمانوں کے دل قائدین نے جیت لئے ہیں ا ن خیالات کااظہار تحریک لبیک یا رسول اللہ


کے میڈیا کورآڈینیٹر مولانا محمد عبداللطیف قادری نے ادارہ تعلیم الاسلام جامع مسجد غوثیہ موہری غزن میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ چیئر کا نام تبدیل کرنے سے قادیانیت نوازی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وطن عزیز میں حوصلہ شکنی ہو گی اور اس فیصلے سے کروڑوں مسلمانوں کے دل قائدین نے جیت لئے ہیں اس وقت تمام عشقان رسول کی نظریں تحریک لبیک یارسو ل اللہ پاکستان پر ہیں تحریک لبیک یارسو ل اللہ پاکستان واحد جماعت ہے جو ملک میں اس وقت نظام مصطفی کے عملی نفاذ کیلئے کو شاں ہے، انہوں نے کہا کہ یہ تحریک نہ چلتی تو قادیانیت آگے بڑھتی اور ملک میں کلیدی عہدوں سمیت اسمبلیوں میں پہنچ جاتی انہوں نے کہ مرکزی قائدین کے فتویٰ کے مطابق تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے نا دانستہ کلمات کہنے پر توبہ کر لی ہم اس جرات پر اپنے قائدین کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی کی چیئر کا نام تبدیل کرکے تحریک لبیک یارسو ل اللہ پاکستان کا مطالبہ پورا کر دیا گیا چار اطراف اذان، دورودہ و سلام سپیکر پر منظور کرانے پرمرکزی امیر تحریک لبیک یارسو ل اللہ پاکستان علامہ خادم حسین رضوی سر پر ست اعلیٰ پیر محمد افضل قادری، پیر سید عنایت الحق شاہ سلطانپوری، شیخ اظہر محمود، انجینئر حفیظ اللہ علوی، ڈاکٹر شفیق امینی، علامہ وحید نور، مولانا فاروق الحسن سمیت تمام قائدین کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کروڑوں مسلمانوں کے دل قائدین نے جیت لئے ہیں


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎