جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے بڑے بزنس مینوں کو بھی ہکا بکا کر ڈالا، عامر متین کے انکشافات

datetime 17  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) شاہ محمود قریشی کی اپنی کئی مربعوں کی زمین مگر بیٹے کا ولیمہ یونیورسٹی گرائونڈ میں کروا کر سرکاری املاک کا ستیاناس کر دیا، کوئی بزنس نہیں، اندرون یا بیرون ملک سٹاک میں سرمایہ کاری بھی نہیں لیکن بیٹے اور اہلیہ کے بنک اکاؤنٹ میں بیس کروڑ روپے کیش موجود بڑے سے بڑے بزنس مین کے اکاؤنٹ میں بھی اتنی رقم کیش میں موجود نہیں ہو گی

جتنی شاہ محمود قریشی کے بیٹے اور اہلیہ کے اکاؤنٹ میں موجود ہے، رئوف کلاسرا اور عامر متین کے نجی ٹی وی پروگرام میں تہلکہ خیز انکشافات۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے معروف صحافی رئوف کلاسرا کا کہنا تھا کہ ملتان کے گیلانیوں، رجوانوں اور قریشیوں کو داد دینی چاہئے کہ جب وہاں یونیورسٹی قائم ہوئی تو ہر کوئی اس کا کریڈٹ لیتا تھا ، بندہ ان سے پوچھے کہ کیا تم لوگوں نے یونیورسٹی اس لئے بنوائی کہ اس کے گرائونڈ میں اپنے بچوں کی شادیاں کروا سکو۔ پروگرام میں شریک معروف صحافی عامر متین نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ شاہ محمود قریشی نے اپنے بیٹے کے ولیمے پر پچیس ہزار مہمان بلوائے ، شادی پر کروڑوں روپے اخراجات آئے، لوگوں نے کرکٹ گرائونڈ کو نہ صرف خراب کیا بلکہ وہاں موجود اسکرین توڑ دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی کئی مربع زمین کے مالک ہیں لیکن انہوں نے بیٹے کی شادی وہاں کرنے کے بجائے سرکاری املاک کا ہی ستیاناس کر دیا۔عامر متین کا کہنا تھا کہ میں شاہ محمود قریشی کے گوشواروں کا جائزہ لے رہا تھا جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا کوئی ملک میں کوئی کاروبار نہیں اور نہ ہی انہوں نے اندرون یا بیرون ملک سٹاک میں کوئی سرمایہ کاری کر رکھی ہے ۔ انہوں نے ڈکلیئر کر رکھا ہے کہ ان کے سارے پیسے زرعی آمدن سے آتے ہیں مگر حیران کن طور پر

ان کی اہلیہ اور بیٹے کے اکائونـٹ میں 20کروڑ روپے کیش موجود ہے۔ عامر متین کا کہنا تھا کہ بڑے سے بڑے بزنس مین کے اکائونٹ میں بھی اتنی رقم کیش میں موجود نہیں ہوتی جتنی شاہ محمود قریشی کی اہلیہ اور بیٹے کے اکائونٹ میں پڑی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…