اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

بلین ٹری منصوبہ ،مذاق اُڑانے والوں کو تگڑا جواب مل گیا،بین الاقوامی طورپربڑا اعتراف،عمران خان نے ایک اوراعلان کردیا

datetime 22  اگست‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ملک کو نعمتوں سے مالا مال کیا ہے، ہمارے حکمران اگلے الیکشن تک کی کارکردگی کا سوچتے ہیں۔ ہمارے ملک میں موجود مختلف جنگلات کو ختم کیا گیا، گلوبل وارمنگ سے متاثرہ ممالک میں پاکستان کا ساتواں نمبر ہے، بلین ٹری منصوبے کا بہت مذاق اڑایا گیا، اگر درخت نہ لگائے گئے تو ملک قحط سالی کا شکار ہو جائے گا۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے یہ بات منگل کو آئی یو سی این کی جانب سے تین لاکھ پچاس ہزار ہیکٹر رقبے پر دوبارہ جنگلات اگانے پر پختونخواہ حکومت کو باضابطہ تعریفی سند دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین کو کہنا چاہتا ہوں کہ چار بین الاقوامی باڈیز نے بلین ٹری منصوبے کی تعریف کی ہے۔یہی سرکاری ملازمین ہیں یہی افسران ہیں جنہوں نے عالمی سطح کا منصوبے میں کامیابی حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ میں پرویز خٹک کو کہتا ہوں کہ محکمہ جنگلات والوں کو ترقیاں دیں۔عمران خان نے کہا کہ نبی ؐ کی حدیث ہے کہ اگلی دنیا کیلئے ایسے رہو کہ اگلے دن مر جانا ہے اور دنیا کیلئے ایسے رہو کہ ہزار سال زندہ رہنا ہے۔ہماری حکومتوں کی ترجیحات آنے والی نسلیں کبھی نہیں رہیں بلکہ اگلا الیکشن ہوتا ہے۔ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ ہم نے ماحولیات کا تحفظ کرنا ہے۔کندیاں چیچہ وطنی اور چھانگا مانگا کے جنگلات ختم ہو گئے۔گزشتہ ادوار میں پختونخوا میں دو سو ارب روپے کی لکڑی کاٹی گئی۔ٹمبر مافیا نے سیاستدانوں سے مل کر پیسہ بنانے کے لیے قوم کا مستقبل تباہ کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ گلوبل وارمنگ سے متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان کا نمبر ساتواں ہے۔اگر آج ہم نے کچھ نہ کیا تو پچاس سال بعد پاکستان میں قحط پڑیں گے۔ماحولیات کے تحفظ کے لیے بڑا اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔

بلین ٹری منصوبہ شروع کیا تو ان لوگوں نے بڑا مذاق اڑایا جو ترقی کو اشتہارات کی حد تک سمجھتے ہیں۔ صوبہ خیبرپختونخوا دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثرتھا۔دیگر مسائل کی وجہ سے پیسہ کم تھا اسکے باجود پرویز خٹک نے اچھا کام کیا۔جس دن حکومت کو عوام کا تعاون مل جاتا ہے تو ہر ٹارگٹ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔گزشتہ ہفتے پختونخوا میں اتنی خوبصورت جگہیں دیکھی ہیں۔

پانچ چھ سڑکیں بنانی ہیں اسکے بعد لوگ سوئٹزرلینڈ کو بھول جائیں گے۔ہمارے حکمرانوں کو معلوم ہی نہیں کہ پاکستان کتنا خوبصورت ملک ہے کیونکہ وہ چھٹیاں لندن میں گزارتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ سیاحت کے نئے مقامات بنارہے ہیں جس سے مقامی لوگوں کو روزگار ملے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوام اور حکومت ایک ہو جائے تو ٹرمپ یا امریکا کچھ نہیں کر سکتے۔یہ خوف نہیں ہونا چائیے کہ امریکا پیسہ نہیں دے تو کیسے معاملات چلیں گے۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…