بدھ‬‮ ، 03 جون‬‮ 2026 

آصف زرداری کا مبینہ اقامہ، یہ عمل گھناؤنا اور قابل مذمت ہے، پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما کا ردعمل

datetime 29  جولائی  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی) سوشل میڈیا پر سابق صدر آصف علی زرداری کے متعلق ایک مبینہ اقامہ کی فوٹو کاپی دراصل جعلی‘ من گھڑت اور فوٹو شاپ کے ذریعے بنائی گئی ہے تاکہ سابق صدر اور پاکستان پیپلزپارٹی کو بدنام کیا جا سکے اور یہ ان لوگون کا کام ہے جو پاکستان کے تمام سیاسی طبقے کی ساکھ خراب کرنا چاہتے ہیں۔ یہ عمل انتہائی گھناؤنا اورقابل مذمت ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے

آج اپنے ایک بیان میں کہا کہ آصف علی زرداری ابوظہبی کے وزارت صدارتی امور کی جانب سے جاری کئے گئے ویزے پر یو اے ای میں جا کر قیام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر کے پاس کسی بھی کمپنی کی ملازمت یا پارٹنرشپ کا کوئی اقامہ نہیں اور سوشل میڈیا پر یہ غلط اور جھوٹی فوٹو کاپی دکھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے بعد کچھ لوگوں نے اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے یہ مہم شروع کی ہے تاکہ عوامی نمائندوں اور سیاستدانوں کو بدنام کیا جا سکے اور ان کی ساکھ خراب کی جا سکے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سابق صدر کے خلاف اس قبیح مہم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس مہم کے پیچھے جو لوگ ہیں وہ ملک کے مفاد میں کام نہیں کررہے۔ جو لوگ آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلزپارٹی اور منتخب نمائندوں کو بدنام کرنا چاہتے انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ کہیں خود ان کی الماریوں میں ان کے رازوں کے ڈھانچے تو نہیں چھپے ہوئے اور اگر وہ ایسا کرلیں تو انہیں یہ احساس ہو جائے گا کہ انہیں بھی بہت سارے سوالات کے جوابات دینا پڑ سکتے ہیں لیکن ابھی تک وہ احتساب سے بچتے رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…