ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

’’ میری اور میرے ساتھیوں کی جان کو شدید خطرہ ہے ‘‘ وزیر اعظم کے قابل اعتماد ساتھی اور اہم ملکی شخصیت نے آرمی چیف سے مدد مانگ لی

datetime 9  مئی‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آئی این پی )پاکستان میڈیاالیکٹرانک ریگولیٹری اتھارٹی( پیمرا) کے چیئرمین ابصار عالم نے کہا ہے کہ میری اور میرے ساتھیوں کی جان کو خطرہ ہے ، پیمرا ملازمین کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں ، وزیراعظم چیف جسٹس ، آرمی چیف ہمیں تحفظ فراہم کریں ، کاروائی نہ ہونے پر پیمرا کیلئے کام کرنا مشکل ہو جائے گا ، ہم اپنے حقوق کیلئے کھڑے ہیں ، جان کی پرواہ نہیں ، دھمکی آمیز کالز کی تحقیقات کرائی جائیں ،

بعض چینلز پیمرا کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں ، کچھ لوگ ملک میں انتشار پھیلا رہے ہیں ، پیمرا کا عملی طور پر اختیار ہائی کورٹس کے پاس جا چکا ہے ، ہم جو بھی ایکشن لیتے ہیں اس پر حکم امتناع آجاتا ہے اسلئے آرڈرز کی وجہ سے پیمرا کام نہیں کر سکے گا ، پیمرا اور قانون کے تحت ذمہ داریاں پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔وہ پیر کویہا ں پریس کا نفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ ابصار عالم نے کہا کہ پیمرا کے ادارے کو بلاجواب تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ، تمام ادارے آئین کے مطابق پیمرا کی مدد کرنے کے پابند ہیں ، نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن ردالفساد کے تحت پیمرا کی کچھ ذمہ داریاں بنتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پیمرا آئین اور قانون کے تحت ذمہ داریاں پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، پیمرا ملازمین کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں ، وزیراعظم ، چیف جسٹس اور آرمی چیف کو نوٹس لینے کیلئے خط لکھا ہے ۔ چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے دھمکی آمیز کال کی آڈیو بھی میڈیا کو سنائی ، ابصار عالم نے کہا کہ پیمرا کیلئے موجودہ صورتحال میں کام کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے ، بعض چیلنجز پیمرا کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں ، میری اور میرے ساتھیوں کی جان کو خطرہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کام بہتر انداز میں سر انجام دینے کیلئے وفاق سے مدد مانگی ہے ، زیر التواء کیسز نمٹانے کیلئے سپریم کورٹ کو بھی خط لکھا ہے ، عدالت سے استدعا ہے کہ زیر التوا درخواستیں جلد نمٹائی جائیں ، تمام ادارے آئین اور قانون کے مطابق پیمرا کی مدد کرنے کے پابند ہیں ۔ ہم جو بھی ایکشن لیتے ہیں اس پر حکم امتناع آجاتا ہے ، پیمرا کا عملی طور پر اختیار ہائی کورٹس کے پاس جا چکا ہے ۔ ابصار عالم نے کہا کہ ایک سال 5ماہ سے میری وزارت پر بھی الزامات لگتے رہے ،

پیمرا کے اختیار کو محدود کردیا گیا ، وزیراعظم ، آرمی چیف دھمکیوں کا نوٹس لیں ، کاروائی نہ ہونے پر پیمرا کیلئے کام کرنا مشکل ہو جائے گا ، میرے خلاف باتیں کرنے والوں کو ذاتی طور پر جانتا ہوں ، میں نے گزشتہ سال 82لاکھ ٹیکس ادا کیا ، میرے دو بھائی تحریک نظام مصطفی کے دوران شہید ہو چکے ہیں ۔انہوں نے کہا سٹے آرڈرزکی وجہ سے پیمرا کام نہیں کر سکے گا، ہم اپنے حقوق کیلئے کھڑے ہیں ،

جان کی پرواہ نہیں ، دھمکی آمیز کالز کی تحقیقات کرائی جائیں ، کچھ لوگ ملک میں انتشار پھیلا رہے ہیں ، ہمیں کونے سے لگا دیا گیا ہے ، وزیراعظم ، چیف جسٹس ، آرمی چیف ہمیں تحفظ فراہم کریں ، ہمیں آوازیں بدل کر دھمکیاں دی جا رہی ہیں ، ہمیں نہیں پتہ کہ دھمکیاں دینے والے شخص کون ہیں ۔ (ن م)

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…