جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

بڑا بریک تھرو،پاک افغان غلط فہمیوں کے ازالے کیلئے طریقہ کار طے پاگیا،حیرت انگیزانکشافات

datetime 2  مئی‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آئی این پی ) سپیکر قومی اسمبلی کی قیادت میں تمام پارلیمانی جماعتوں کے پہلے مشترکہ دورہ افغانستان کی رپورٹ کی تیاری شروع کردی گئی جبکہ دونوں ممالک کے دفاعی اداروں میں قریبی رابطوں سے متعلق تجاویز سے یہاں کے اداروں کو آگاہ کردیا گیا ، غلط فہمیوں کے ازالے کیلئے پارلیمان ضامن بنے گا ، دونوں ممالک میڈیا میں الزام تراشی سے گریز کرتے ہوئے مسئلے کے حل کیلئے پارلیمانی چینل کو استعمال کریں گے ،

پارلیمانی کمیشن /جرگہ کی تجویز میں پیش رفت کیلئے رواں ماہ اعلیٰ سطح کے پارلیمانی وفد کا دورہ پاکستان متوقع ہے ۔ اس خبررساں ادارے کے ذرائع کے مطابق حکومت اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کے حالیہ پہلے مشترکہ دورہ افغانستان کی رپورٹ تیار کرنے کا کام شروع کردیا گیا ہے ۔ رپورٹ کیمنظوری کے لئے جلد سپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں افغانستان کا دورہ کرنے والے پارلیمانی رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس ہوگا ، دورہ افغانستان کی رپورٹ کی توثیق کے بعد افغان پالیسی پر رہنما اصولوں کے تناظر میں یہ رپورٹ وزیراعظم ، وزارت خارجہ اور سلامتی وعسکری اداروں کو بھیج دی جائے گی ذرائع کے مطابق پاکستان کی طرح افغانستان سے بھی اعلیٰ ترین پارلیمانی وفد بشمول حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ کے دورہ پاکستان کی تاریخ پر مشاورت شروع کردی گئی ہے ۔ افغان سپیکر کو دورہ ماہ مئی ہی میں افغان پارلیمانی وفدکے ہمراہ پاکستان کے دورے کی تجویز دے دی گئی ۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے پارلیمانی رہنماؤں کے دورہ کے دوران افغان صدر اشرف غنی نے غیر معمولی طور پر یہ بھی کہا ہے کہ دنیا کو کوئی مل کرپاکستان کی جگہ نہیں لے سکتا جبکہ حامد کرزئی نے پاکستان اور افغانستان کو جڑواں ملک عبداللہ عبداللہ نے دو بھائی ملک قرار دیا ہے ، پاکستان کے وفد کی زبردست پذیرائی اور مہمان داری کی گئی ۔

اس تجویز پر تبادلہ خیال کیا گیا کہ غلط فہمیوں کے ازالے کیلئے معاملات کی نگرانی دونوں ملکوں کے پارلیمان کو کرنا چاہیے ۔ اس حوالے سے مشترکہ پارلیمانی کمیشن /جرگہ کی تجویز کو ٹھوس شکل دینے پر کام شروع کردیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے پارلیمانی رہنماؤں نے اس حوالے سے سپیکر سردار ایاز صادق پر اتحاد کا اظہار کیا ہے کہ ان کی رطف سے وہ اس تجویز کو آگے بڑھا سکتے ہیں ۔ دفاعی ادارہ میں قریبی رابطوں کی پارلیمانی نگرانی کریں گے اور اگر کسی طرف سے عہدہ پیمان کی پاسداری نہیں کی جاتی تو پارلیمان کے ذریعے اس کی یاددہانی کروائی جائے گی ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…