جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کی شہہ پر پاکستان میں دراندازی،افغانستان نے دوٹوک اعلان کردیا

datetime 28  ستمبر‬‮  2016 |

پشاور(این این آئی)افغان سفیر ڈاکٹرعمر زاخیلوال نے کہا ہے کہ انڈیا کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں،انڈیا کے ساتھ اچھے تعلقات کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں دراندازی کریں۔نوشہرہ اضاخیل میں افغان مہاجرین رضاکاروانہ واپسی سنٹرکے افتتاح کیاگیا،سنٹر کے افتتاح کے موقع پرچیف کمشنرافغان مہاجرین عمران زیب ،یواین ایچ سی آر کے کنٹری ڈائریکٹراندریکاراٹاویٹ، اوردیگر حکام بھی موجود تھے۔ میڈیا سے گفتگو کرتیہوئے ڈاکٹر عمر زاخیلوال نے کہا کہ افغانستان میں جنگ جاری ہے فائرنگ کے واقعات ہوتے رہتے ہیں،افغانستان کی جانب سے پاکستانی چیک پوسٹوں پرفائرنگ کی خبریں غلط ہیں،اب واپسی کا عمل شروع ہے جوامن کے قیام امن میں مددگار ثابت ہوگا،افغان سفیر نے کہا کہ بھارت کیساتھ تعلقات اچھے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں پاکستان میں دراندازی کریں،انہوں نے کہاکہ رضاکارانہ واپسی سنٹرکا قیام حکومت اوربین الاقوامی اداروں کا اچھا اقدام ہے،سنٹرکے قیام سے واپس جانے والے افغان مہاجرین کو سہولت ہوگی،گزشتہ کئی سالوں سے پاکستانی عوام نے مہمان نوازی کی۔اس موقع پر چیف کمشنر افغان مہاجرین عمران زیب کاکہنا تھا کہ افغان مہاجرین کی واپسی میں تیز آئی ہے اس لئے دوسرا سنٹرکھولنے کی ضرورت پڑی،اب تک65ہزاررجسٹرڈافغان مہاجرین کے ساتھ اتنے ہی غیرجسٹرڈافغان خاندان واپس جاچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے چمکنی میں ایک سنٹرتھا اوردوسرا بلوچستان میں تھا تاہم مہاجرین کی واپسی میں تیز کے باعث اب یہ سنٹرکھولا گیا ہے جس میں ایک ہی دن میں چھ سو خاندان کیلئے انتظامات کئے گئے ہیں اورچمکنی کے سنٹرکی کیپسٹی بھی بڑھا دی ہیں اورروزانہ بارہ سو خاندان واپس جاسکیں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین طالب علم کیلئے پالیسی مرتب کی جارہی ہے وفاقی کابینہ کے اجلا س میں وزیراعظم نے تمام سیاسی جماعتوں اورصوبائی حکومت سے رائے طلب کرلیا ہے اوررتمام سیاسی جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ نئی پالیسی کی ضرورت نہیں تاہم ویزہ پالیسی ضروری ہے ،اب بہت جلد طلباء کے لئے ویزہ پالیسی پرعمل درآمد شروع ہوجائیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…