کراچی(این این آئی)انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 22 اگست کو پریس کلب کے باہر ہنگامہ آرائی بغاوت اور غداری کے مقدمے میں گرفتارایم کیوایم کی تین خواتین کی ضمانت منظورکرلی ہے جبکہ ایم کیو ایم رہنما کنور نوید جیل اور شاہد پاشا کو جیل میں بی کلاس دینے کا حکم بھی دیاہے۔ہفتہ کوانسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت میں غداری، بغاوت اور توڑپھوڑ کے الزام میں گرفتار 3خواتین کارکنان رابعہ، قرہ العین اور سمیرا کی ضمانت سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت ملزمان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تینوں خواتین کے نام ایف آئی آر میں شامل نہیں ہیں۔قراۃ العین اور رابعہ نجی اسٹور پر شاپنگ کر رہی تھیں جن کی رسیدیں موجود ہیں۔ وکیل لطیف پاشا کے مطابق ملزمہ سمیرا ڈیوٹی پر تھی ایک اسپتال میں کام کرتی ہیں ،سمیرا4بجے آفس سے نکلی،واقعہ 5بجے کا ہے جبکہ ان کو 26اگست کو گرفتار کیا گیا ،ان کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات بنائے گئے ہیں۔ سرکاری وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین کی اشتعال انگیز تقریر کے بعد پریس کلب کے باہر ہنگامہ آرائی، تھوڑ پھوڑ اور نجی ٹی وی چینل پر حملہ کرنے کے الزام میں ایم کیو ایم کے 54 کارکنان کو گرفتار کیا گیا جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں جنہیں توڑ پھوڑ کرتے ہوئے سی سی ٹی وی کیمرے کی مدد سے دیکھا جاسکتا ہے،عدالت نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد تینوں خواتین کی ضمانت سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔جس کے بعد عدالت نے2،2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض تینوں کارکنان کی ضمانت منظور کرلی ہے۔دوسری جانب مقدمہ میں گرفتار ایم کیوایم رہنما کنور نوید اور شاہد پاشا کی بی کلاس کی درخواست بھی منظور کرلی گئی۔ اس کے علاوہ مقدمہ میں گرفتار دیگر ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کرنے کا حکم دیے دیا ہے۔