لاہو ر(این این آئی )صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثناء اللہ خاں نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کو سکیورٹی خدشات سے تحریری طور پر آگاہ کر دیا،احتساب مارچ منسوخ کر دیں کیونکہ اس سے کارکنوں کو خطرے میں ڈالنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا ، حساس اداروں کے متعدد الرٹس کے مطابق خود کش بمبار لاہور اور پشاور میں داخل ہو چکے ، ان کا ستمبر کے پہلے ہفتے میں دہشت گردی کا منصوبہ ہے وہ حساس مقامات اور سوفٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنا سکتے ہیں جس کی بناء پر پنجاب بھر میں سکیورٹی الرٹ کر دی گئی ہے ،عمران خان لاہور کی بجائے پشاورجائیں اور زخمیوں کی عیادت کریں ، دہشتگردوں اور پی ٹی آئی کا ایجنڈا ایک ہے کیونکہ دونوں انتشار اور افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں ، فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں، رینجرز کے ساتھ پنجاب میں آپریشن کے اختیارات پر کوئی بات نہیں چل رہی بلکہ رینجرز تو پہلے ہی پنجاب میں کو مبنگ آپریشن میں بھرپور حصہ لے رہی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ترجمان پنجاب حکومت سید زعیم حسین قادری کے ہمراہ 90شاہراہ پر پریس کانفرنس سے خطا ب کے دوران کیا ۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عسکری اور سول حساس اداروں نے مسلسل الرٹس جا ری کیے ہیں جس کے مطابق خود کش بمبار پشاور اور لاہور بھیج دئیے گئے ہیں اور وہ حساس مقامات اور سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنا سکتے ہیں ،ان کاستمبر کے پہلے ہفتے میں دہشتگردی کا منصوبہ ہے ، وہ حساس مقامات اور سوفٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنا سکتے ہیں جس کی بناء پر پنجاب بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے ، پی ٹی آئی کے رہنما عبدالعلیم خان کو یہ تمام معلومات تحریری شکل میں بھیج دی گئی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں اوراس احتساب مارچ کو منسوخ کردیں، پی ٹی آئی کو اس احتساب مارچ سے اپنے ہی کارکنوں کو خطرے میں ڈالنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ انہوں نے جو گالم گلوچ کر نا ہے وہ کچھ مزید بھی جمع کر لیں اور عید کے بعد کر لیں ،وہ یہ کام اسلام آباد میں بھی کر چکے ہیں ۔عمران خان کو چاہیے کہ وہ لاہور کی بجائے پشاور جائیں اور زخمیوں کی عیادت کریں ، اور اپنے کزن کو بھی ساتھ لے کرجائیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف اثاثے چھپانے کے سوال کا جواب متعدد مرتبہ دے چکے ہیں او ر اپنے آپ کو ہر قسم کی تحقیقات کیلئے پیش بھی کر چکے ہیں ،انہوں نے کوئی اثاثہ نہیں چھپایا لیکن عمران خان اس بات کا جواب دیں کہ انہوں نے اپنی اولاد کیو ں چھپائی ہوئی ہے ؟۔احتساب مارچ میں طاقت کے استعمال سے حتی الامکان گریز کیا گیا ہے کیونکہ اس سے تصادم کا خدشہ ہے لیکن جہاں عام عوام کے جان و مال کے تحفظ کا معاملہ ہو گاتو وہاں قانون حرکت میں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ احتساب مارچ کو محرم الحرام جلوسوں کی طرز پر 3حصار پر مشتمل سکیورٹی فراہم کی جائے گی اور فول پروف سکیورٹی کو یقینی بنانے کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ رینجرز کے ساتھ پنجاب میں آپریشن کے اختیارات پر کوئی بات نہیں چل رہی بلکہ رینجرز تو پہلے ہی پنجاب میں کو مبنگ آپریشن میں بھرپور حصہ لے رہی ہے اور پنجاب میں ٹارگٹڈ آپریشن کر رہی ہے ،پنجاب میں فوج اور رینجرز کو دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے حوالے سے مطلوبہ اختیارات او روسائل کی فراہمی میں کوئی کسراٹھانہیں رکھی جائے گی ۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اب تک فراہم کی گئی معلومات کے مطابق سانحہ کوئٹہ ، سانحہ اقبال ٹاؤن کے دہشتگردی کے واقعات میں کالعدم تحریک طالبان کا ونگ جماعت الاحرارملوث ہے لیکن راء کا ملوث ہونا خارج ازامکان نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وارسک ڈیم کے قریب ہونیوالا حملہ صرف کرسچن کالونی پر نہیں بلکہ پاکستان پر حملہ تھا اور بدنام کرنے کی سازش تھی کہ پاکستان میں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں ۔