کراچی(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کراچی کے صدر علی حیدر زیدی نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے نام لکھے گئے خط میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کردیا۔پیر کو علی حیدر زیدی نے اپنے کھلے خط میں آرمی چیف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس ملک کی سرحدوں کے محافظ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے بھی ذمہ دار ہیں جو آج کل خطرے سے دوچار ہیں۔علی زیدی نے کہاکہ یہ کوئی خفیہ بات نہیں ہے کہ ایم کیو ایم سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی پیداوار ہے، جسے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے سہولت فراہم کی، لہذا آپ کے پیش روؤں کی جانب سے پیدا کی گئی خرابیوں کو درست کرنے کی ذمہ داری بدقسمتی سے خود بخود آپ کے کندھوں پر آجاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ میجر جنرل بلال اکبر کی قیادت میں سندھ رینجرز نے شہر میں امن کی بحالی، ایم کیو ایم سمیت دیگر جماعتوں کے مجرموں اور شرپسندوں کے علاوہ کالعدم تنظیموں کے افراد کو گرفتار کرکے شاندار کام کیا ہے تاہم الطاف حسین کے حالیہ بیان اور فاروق ستار کی پریس کانفرنس کے تناظر میں اب وقت آچکا ہے کہ ایم کیو ایم کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جس میں متحدہ پر پابندی سمیت ان تمام افراد کے خلاف کارروائی بھی شامل ہے، جو اب تک ان کی حمایت کرتے ہیں۔اپنے کھلے خط میں علی زیدی نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں کی پریس کانفرنس پاکستانی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، برائے مہربانی ان مجرموں کو ایم کیو ایم لندن اور ایم کیو ایم پاکستان میں تفریق کرکے اپنی ذہانت کا مذاق نہ اڑانے نہ دیں، الطاف حسین اب بھی یہیں ہیں اور ان کے روحانی رہنما ہیں۔یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک ایسا شخص جس کے خلاف دہشت گردی اور غداری کے مقدمات درج ہوں اور وہ پھر بھی عوامی اجتماعات سے خطاب کرے، پریس کانفرنسز کرے اور ٹی وی پر آئے؟ کیا ہم اسی طرح کی سہولت کسی کالعدم تنظیم کے کمانڈر کو بھی دیں گے؟ایک ایسی سیاسی جماعت، جس کی حب الوطنی ایک سوالیہ نشان ہو، کس طرح الیکشن میں حصہ لے سکتی ہے، مینڈیٹ میں دھاندلی کر سکتی ہے اور پاکستان کے سب سے بڑے اور اہم شہر پر حکومت کر سکتی ہے۔سندھ رینجرز، جس نے کراچی میں ضمنی الیکشن میں انتہائی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، کس طرح وہ لوکل باڈی الیکشن میں ناکام ثابت ہوئی، جس کے نتیجے میں شہر میں ایک ایسا میئر منتخب ہوا، جو 12 مئی 2007 کو کراچی میں ہونے والے قتل عام کے الزام میں جیل میں قید ہے۔کس طرح ایسے افراد ، جو ایم کیو ایم میں رہتے ہوئے عشروں تک ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہے اور پھر ڈوبتی ہوئی کشتی سے چھلانگ لگا کر کس طرح وہ بالکل پاک صاف ہوگئے۔علی زیدی نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کو عوام کی خدمت کا مینڈیٹ دیا جاتا ہے، انھیں قتل کرنے یا لوٹنے کا نہیں۔ اگر جرمنی میں نازی پارٹی نے 1933 میں مینڈیٹ جیتا تھا تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کی جانب سے کیے گئے قتل عام کو ان کے مینڈیٹ کی وجہ سے درست قرار دیا جائے۔پی ٹی آئی رہنما کے مطابق کیا یہ قائد کا پاکستان ہے جہاں ملک مخالف عناصر کو کھلے عام گھومنے کی آزادی ہے۔علی زیدی نے کہا کہ کراچی میں پلے بڑھے ہونے کی وجہ سے میں یہاں کی سڑکوں پر بلاخوف وخطر گھومتا تھا اور میری والدہ مجھے قریبی تندور سے روٹی لینے کیلئے سائیکل پر بھیج دیتی تھیں، کراچی ایک پر امن شہر تھا ٗمیں اپنا پرامن کراچی واپس چاہتا ہوں، ایسا کراچی، جہاں میں سڑکوں پر اپنے بچوں کیساتھ بغیر کسی خوف کے چل پھر سکوں اور مجھے اغواء ہونے یا گولی لگنے کا کوئی ڈر نہ ہو۔