کوئٹہ(نیوزڈیسک)چمن میں باب دوستی پر حملے کے بعد بالاخربلوچستان میں افغان مہاجرین کیخلاف بڑا قدم اُٹھالیاگیا،تفصیلات کے مطابق پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مشرقی بائی پاس کے قریب بھوسہ منڈی کے علاقے میں مدرسہ عبداللہ بن زبیر میں سرچ آپریشن کرکے 100 افغان باشندوں کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار افغان باشندوں کے پاس کوئی سفری دستاویزت نہیں تھیں۔ گرفتار افغان باشندوں کو مزید تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے بعد مدرسے کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان نے افغان مظاہرین کی جانب سے چمن میں ‘باب دوستی’ پر حملے اور پاکستانی پرچم نذر آتش کرنے کے واقعے کے بعد پاک۔افغان بارڈر کو بند کردیاتھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان نیٹو سپلائی اور ہر قسم کی تجارتی سرگرمیاں معطل ہوگئیں تھیں۔ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کے متنازع بیان کے خلاف بلوچستان میں عوام نے ایک احتجاجی ریلی نکالی اور چمن بارڈر تک جاپہنچے۔دوسری جانب افغان شہریوں نے بھی ملک کی 97 سالہ یوم آزادی کے موقع پر ایک ریلی نکالی اور سرحد کے قریب واقع قصبے اسپین بولدک سے گزرتے ہوئے چمن بارڈر پر باب دوستی کے سامنے جمع ہوگئے۔تاہم وہاں پاکستانی شہریوں کو دیکھ کر یہ ریلی پاکستان کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں تبدیل ہوگئی اور ریلی کے شرکاءنے چمن میں ‘باب دوستی’ پر پاکستان مخالف نعرے لگاتے ہوئے پتھر برسائے، جس سے باب دوستی کے شیشے ٹوٹ گئے۔افغان مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر پاکستان مخالف نعرے درج تھے۔دوسری جانب پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے افغان شہریوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے اجتناب کیا۔