اسلام آباد (مانیٹر نگ ڈیسک ) الیکشن کمیشن میں وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف ریفرنس پر پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی نے دلائل مکمل کر لیے ۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ آف شور کمپنیاں جب بنائیں گیئں اس وقت حسن نواز اور مریم نواز کم عمر تھے، وزیراعظم نواز شریف نے آف شور کمپنیوں سے متعلق غلط بیانی کی ہے ۔چیف الیکشن کمشنر سردار رضا کی سربراہی میں کمیشن نے پی پی ، پی ٹی آئی اور دیگر کی درخواستوں کی سماعت کی ۔ پی پی کے لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا آف شور کمپنیاں جب بنائی گیئں اس وقت حسن نواز اور مریم نواز کم عمر تھے ، وزیراعظم نواز شریف نے آف شور کمپنیوں سے متعلق غلط بیانی کی ہے ، آف شور کمپنیوں کے اصل مالک وزیر اعظم نواز شریف ہیں، وزیراعظم نوازشریف نے اپنے کاغذات نامزدگی میں آف شورکمپنیاں ظاہر نہیں کیں ۔
ان کا کہنا تھا پارک لین میں 1993 اور 1995 میں فلیٹس خریدے گئے ، یہ بیان سراسر غلط ہے کہ وزیراعظم نے سعودی عرب میں سٹیل ملز فروخت کر کے لندن میں فلیٹس خریدے ، الیکشن کمیشن وزیراعظم نواز شریف کو اثاثوں کی تفصیلات چھپانے پر نااہل قرار دے ۔کیپٹن صفدر کو بھی اپنی اہلیہ کی ملکیت آف شور کمپنی ظاہر نہ کرنے پر نااہل قرار دیا جائے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو ماضی میں قتل مقدمے میں اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے ۔ شہباز شریف بھی صادق اور امین نہیں ہیں ۔ شہباز شریف مختلف بینکوں کے نادہندہ ہیں ، شریف فیملی منی لانڈرنگ اور ٹیکس چھپانے میں ملوث ہیں ۔ کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپانے پر کرپٹ پریکٹسز میں ملوث رہے ۔ وزیر اعظم کے بچوں کا نام پاناما لیکس میں آنے پر وہ ایکسپورز ہوئے ۔ وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے افراد پارلیمنٹ میں بیٹھنے کے حقدار نہیں ، پی ٹی آئی کے وکیل انیس ہاشمی نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف ٹیکس چوری کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ سالانہ ٹیکس تفصیلات جمع نہ کرانے پر وزیراعظم نواز شریف کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ، شریف خاندان نے منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک رقم بھیجی ۔
خبریں کیا چلتی رہی آف شور کمپنیو ں کا اصل مالک کو ن ہے ؟ سنیئر سیا ستدان نے ایسا نام لے لیا سب سو چتے رہ گئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں