بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت نے بڑی صنعت پر عائدپابندی ختم کردی‘ نوکریوں کے وسیع مواقع

datetime 11  اگست‬‮  2016 |

پشاور(این این آئی)خیبرپختونخواحکومت نے معدنیات پر عائدپابندی ختم کرتے ہوئے مائنگ پالیسی کااعلان کردیا۔ خیبر پختو نخوا معدنیات کی دولت سے مالا ما ل ہیں ماضی میں اسکا غلط استعمال کیا گیا حکومت نے پالیسی وضع کر دی ہیں ۔سی ایم ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلی پرویزخٹک نے کہا کہ محکمہ معدنیات کے حوالے سے ماضی میں جوکوتاہیاں ہورہی تھیں اب نہیں ہونگی سائیڈسروے کے بعدہی آکشن کیاجائے گا اورمحدودمدت کیلئے کمپنیوں کو لیز کی بنیاد پر معدنیات کی اجازت ہوگی مائیننگ پالیسی کی تفصیلات بتاتے ہوئے صوبائی وزیر معدنیات انیسہ زیب طاہرخیلی نے کہاکہ اب تک ملک بھرمیں 1948کامائننگ ایکٹ نافذتھاتاہم18ویں ترمیم کے بعد صوبے کو نئے پالیسی اور ایکٹ کااختیار دیاگیا اورخیبرپختونخوا حکومت نے باقی صوبوں کی نسبت پہل کرتے ہوئے سب سے پہلے آرڈیننس کے ذریعے مائننگ کااعلان کردیا تمام معلومات ویب سائٹ پر دستیاب ہوگی اس کے علاوہ وزیرمعدنیات کی چیئرمین شپ میں13رکنی کمیٹی محکمہ معدنیات کی نگرانی کریگی اور اس حوالے سے رائیلٹی اورالتواء میں پڑے کیسوں کابھی فیصلہ کریگی اس کے علاوہ سیکرٹری معدنیات کی سربراہی میں ایک اور کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جس میں سیکرٹری ماحولیات ،سیکرٹری قانون ،چیف انسپکٹرمائنز،کمشنرمائنزاور ڈی جی مائنز شامل ہونگے۔یہ کمیٹی لائسنسوں کے اجراء اور لیز کے ختم ہونے کے حوالے سے فیصلہ کریگی اس کے علاوہ یہ کمیٹی مائننگ آپریشن کو ریگولیٹ کریگی اور غیرقانونی طور پر کھدائی کرنیوالوں کے خلاف اقدامات اٹھائے گی ۔انیسہ زیب نے کہاکہ ماضی میں ڈی جی سمیت دیگرافسران کے صوابدیداختیارات کاخاتمہ کردیاہے اوراب محکمے کو تین درجے میں تقسیم کیاگیاہے نئی پالیسی کے مطابق ایک لیزہولڈرصرف تین لیز زلے سکتاہے اس کے علاوہ بہت جلد جیمز اینڈجیمالوجیکل کے ساتھ میٹرالوجی کے ادارے بھی قائم کئے جائینگے دھماکہ خیزموادکے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے اورمائننگ کے قانونی استعمال کے ذریعے تمام لوگوں کو باقاعدہ تربیت کی جائے گی انہوں نے کہاکہ اب ہرچیز آکشن کے ذریعے ہوگا اورجوکوئی غیرقانونی کھدائی کریگادس لاکھ روپے تک جرمانہ اورتین سال قیدکی سزادی جائے گی اسکے علاوہ کمیٹی کو ان کے لائسنس منسوخ کرنے کابھی اختیار ہے انہوں نے کہاکہ ماضی میں غیرقانونی کھدائی پر کوئی سزامقررنہیں کی گئی تھی جس کی وجہ سے انہیں صوابدیدی اختیارکے ذریعے گرفتارکیاجاتاتھانئے نظام کے تحت جیوٹیکنگ اورجی آئی ایس کے نظام کو متعارف کیاجائیگا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…