منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

پاناما لیکس ،کوئی اعتراض نہیں ٗ سعد رفیق

datetime 15  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ حکومت کو پاناما لیکس پر سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ یا حاضر سروس چیف جسٹس کی نگرانی میں کمیشن تشکیل دینے پر کوئی اعتراض نہیں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی ریاستی ادارے سے پاناما رپورٹس پر شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ ممتاز جج پہلے ہی کمیشن کی سربراہی سے معذرت کر چکے ہیں کیونکہ اپوزیشن نے پوائنٹ سکورنگ کے چکر میں اس معاملہ کو سیاسی رنگ دے دیا ہے۔ وفاقی وزیر سعد رفیق نے کہا کہ آزاد تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کی خاطر تحریک انصاف سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں سے رابطوں کے لئے مسلم لیگ (ن) کے قائدین کی ذمہ داریاں لگا دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کیلئے ٹرم آف ریفرنسز تیار کر لئے گئے ہیں جو اس کمیشن کی اعلی کریڈیبلٹی کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے سربراہ پاناما لیکس پر کمیشن تشکیل دینے میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی اآئی کو احتجاج کی سیاست کی بجائے حکومت کے ساتھ متفقہ کمیشن پر بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں بھی جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کیا تھا لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس نے اس کمیشن کے فیصلہ کو تسلیم نہ کیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…