ہفتہ‬‮ ، 07 مارچ‬‮ 2026 

دنیا بھر میں خسارے سے نجات کیلئے قومی فضائی اداروں کی نجکاری ہوئی

datetime 2  فروری‬‮  2016 |

لاہور(نیوز ڈیسک) دنیا بھر میں خسارے سے نجات کیلئے قومی فضائی اداروں کی نجکاری ہوئی ۔قومی فضائی ادارے کسی بھی ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں قومی فضائی ادارے قرضوں کے بوجھ ،زائد عملے، سیاسی مداخلت ، بد انتظامی سے اٹے پڑے ہیں اور ان کے پالیسی سازوں کے پاس ان کی کلی یا جزوی طور پر نجکاری کرنے سے سوا کوئی چارہ نہیں۔ یہاں تک کہ برطانیہ کی برٹش ایئرویز فروخت ہونے سے قبل خسارے اور زائد عملے کے مسائل کا شکار تھی۔ اس کمپنی نے 1983میں ادارے کی نجکاری کیلئے درکار ساختیاتی اصلاحات کا پروگرام متعارف کیا۔ نجکاری سے چار برس قبل اس کے تقریباً50سینئر افسران پر جرمانے عائد کیے گئے۔ برٹش ایئر ویز سالانہ 97ممالک میں 268مقامات پر اپنی پروازوں کےآپریشنز سرانجام دیتی ہے ، جسے 3کروڑ60لاکھ مسافر استعمال کرتے ہیں ۔ نجکاری سے قبل یہ ادارہ 1980کی دہائی میں سالانہ ٹیکس گزاروں کے 18کروڑ90لاکھ پاؤنڈ ہڑپ کرجاتا تھا ۔جنگ رپورٹرصابر شاہ کے مطابق
1987میں 1.47ارب ڈالر میں اس کے 72کروڑ20لاکھ حصص فروخت کردیئے گئے ۔ برطانوی روزنامے’ دی انڈیپینڈنٹ‘ کے مطابق 30برس قبل نجکاری کا سامنا کرنے والی برطانوی فضائی کمپنی اس وقت خسارے میں تھی۔ فروری2015میں اس کا منافع ٹیکس کی ادائیگی کے بعد بھی73کروڑپاؤنڈ تک جاپہنچا ہے ، جبکہ کمپنی نے اس میں مزید اضافے کا وعدہ کیا ہے۔ دوسری جانب دانشمندانہ انتظام کاری ، اور مصمم ارادے کی بدولت ایئر انڈیا جیسی سرکاری فضائی کمپنی نے گزشتہ مالی سال میں 8 کروڑ ڈالر (5.41ارب روپے)کا منافع کمایا۔ بھارتی فضائی کمپنی کی کارکردگی پی آئی اے کیلئے دیدہ کشا ہے، جس بھاری قرضوں سمیت کئی مسائل کا سامناہے۔ جون 2014میں قومی فضائی ادارے کا خسارہ 227ارب روپے تھا۔ افسوسناک طور پر مئی 2015میں میڈیا رپورٹس کے مطابق پی آئی اے کی انتظامیہ نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 1.94ارب روپے کا خالص خسارہ ظاہر کرنے کے باوجود قومی فضائی ادارے کے عملے اور افسران کی تنخواہوں میں عارضی طور پر 17فیصد کا اضافہ کیا۔ اس وقت ن لیگ کی حکومت پی آئی اے کی نجکاری کی خواہاں ہے لیکن اسے عملے اور ٹریڈ یونینزکی شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ درج ذیل ممالک کی فضائی کمپنیوں کی نجکاری ہوچکی ہیں۔جنوبی افریقا کی سینئرایئر لائنز، (1987 میں اسکی نجکاری ہوئی) برٹش ایئر ویز، جرمنی کی لفتھانزہ ائیر لائنز، آسٹریلیا کی قنطاس ایئرلائن، آسٹریا کی آسٹرین ایئر ویز، بنگلہ دیش کے بیمان ایئر لائنز ، فرانس ایچ.بی.ایچ.سی فرانسیسی ایئر لائنز، برازیل کی Nordeste Linhas Aereas Regionais ، جاپان کب جاپان ایئر لائنز، کینیڈا کی ایئر کینیڈا اور انٹر کینیڈا، جنوبی کوریا کی کوریا ایئر، لتھوانیا کی ایئر لتھوانیا، البانیا کی ادا ایئر اور البانین ایئر لائنز، پرتگال کی وائٹ ایئر ویز، جمہوریہ سلوواکیہ کی تاترا ایئر، ہسپانیہ کی بنتر میدیترینیو، روس کب Aerobratsk، Chitaavia، کلینی گارڈ ایئر، برسک ایئر انٹرپرائز، اومسک ایئر لائنز، کوہ یورال ایئر لائنز اور Vnukovo ایئر لائنز، بلغاریہ کی ہیمس ایئر، وینزویلا کے ائیرو پوسٹل الاس ڈی وینزویلا ، اسرائیل کی ارکیا اسرائیل، آئر لینڈ کی سے ایئر اران، چلی کی ایل اے این ایئرلائنز، میکسیکو کی Aviacsa، Aeromexico ،کلک میکسیکانہ اور میکسیکانہ ایئر ویز اور پانامہ کی ایئروپرلاس کریں۔ درج ذیل ایئرلائنز کلی یا جزوی طور پر اپنی متعلقہ ریاستوں کی ملکیت ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…