جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

دنیا بھر میں خسارے سے نجات کیلئے قومی فضائی اداروں کی نجکاری ہوئی

datetime 2  فروری‬‮  2016 |

لاہور(نیوز ڈیسک) دنیا بھر میں خسارے سے نجات کیلئے قومی فضائی اداروں کی نجکاری ہوئی ۔قومی فضائی ادارے کسی بھی ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں قومی فضائی ادارے قرضوں کے بوجھ ،زائد عملے، سیاسی مداخلت ، بد انتظامی سے اٹے پڑے ہیں اور ان کے پالیسی سازوں کے پاس ان کی کلی یا جزوی طور پر نجکاری کرنے سے سوا کوئی چارہ نہیں۔ یہاں تک کہ برطانیہ کی برٹش ایئرویز فروخت ہونے سے قبل خسارے اور زائد عملے کے مسائل کا شکار تھی۔ اس کمپنی نے 1983میں ادارے کی نجکاری کیلئے درکار ساختیاتی اصلاحات کا پروگرام متعارف کیا۔ نجکاری سے چار برس قبل اس کے تقریباً50سینئر افسران پر جرمانے عائد کیے گئے۔ برٹش ایئر ویز سالانہ 97ممالک میں 268مقامات پر اپنی پروازوں کےآپریشنز سرانجام دیتی ہے ، جسے 3کروڑ60لاکھ مسافر استعمال کرتے ہیں ۔ نجکاری سے قبل یہ ادارہ 1980کی دہائی میں سالانہ ٹیکس گزاروں کے 18کروڑ90لاکھ پاؤنڈ ہڑپ کرجاتا تھا ۔جنگ رپورٹرصابر شاہ کے مطابق
1987میں 1.47ارب ڈالر میں اس کے 72کروڑ20لاکھ حصص فروخت کردیئے گئے ۔ برطانوی روزنامے’ دی انڈیپینڈنٹ‘ کے مطابق 30برس قبل نجکاری کا سامنا کرنے والی برطانوی فضائی کمپنی اس وقت خسارے میں تھی۔ فروری2015میں اس کا منافع ٹیکس کی ادائیگی کے بعد بھی73کروڑپاؤنڈ تک جاپہنچا ہے ، جبکہ کمپنی نے اس میں مزید اضافے کا وعدہ کیا ہے۔ دوسری جانب دانشمندانہ انتظام کاری ، اور مصمم ارادے کی بدولت ایئر انڈیا جیسی سرکاری فضائی کمپنی نے گزشتہ مالی سال میں 8 کروڑ ڈالر (5.41ارب روپے)کا منافع کمایا۔ بھارتی فضائی کمپنی کی کارکردگی پی آئی اے کیلئے دیدہ کشا ہے، جس بھاری قرضوں سمیت کئی مسائل کا سامناہے۔ جون 2014میں قومی فضائی ادارے کا خسارہ 227ارب روپے تھا۔ افسوسناک طور پر مئی 2015میں میڈیا رپورٹس کے مطابق پی آئی اے کی انتظامیہ نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 1.94ارب روپے کا خالص خسارہ ظاہر کرنے کے باوجود قومی فضائی ادارے کے عملے اور افسران کی تنخواہوں میں عارضی طور پر 17فیصد کا اضافہ کیا۔ اس وقت ن لیگ کی حکومت پی آئی اے کی نجکاری کی خواہاں ہے لیکن اسے عملے اور ٹریڈ یونینزکی شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ درج ذیل ممالک کی فضائی کمپنیوں کی نجکاری ہوچکی ہیں۔جنوبی افریقا کی سینئرایئر لائنز، (1987 میں اسکی نجکاری ہوئی) برٹش ایئر ویز، جرمنی کی لفتھانزہ ائیر لائنز، آسٹریلیا کی قنطاس ایئرلائن، آسٹریا کی آسٹرین ایئر ویز، بنگلہ دیش کے بیمان ایئر لائنز ، فرانس ایچ.بی.ایچ.سی فرانسیسی ایئر لائنز، برازیل کی Nordeste Linhas Aereas Regionais ، جاپان کب جاپان ایئر لائنز، کینیڈا کی ایئر کینیڈا اور انٹر کینیڈا، جنوبی کوریا کی کوریا ایئر، لتھوانیا کی ایئر لتھوانیا، البانیا کی ادا ایئر اور البانین ایئر لائنز، پرتگال کی وائٹ ایئر ویز، جمہوریہ سلوواکیہ کی تاترا ایئر، ہسپانیہ کی بنتر میدیترینیو، روس کب Aerobratsk، Chitaavia، کلینی گارڈ ایئر، برسک ایئر انٹرپرائز، اومسک ایئر لائنز، کوہ یورال ایئر لائنز اور Vnukovo ایئر لائنز، بلغاریہ کی ہیمس ایئر، وینزویلا کے ائیرو پوسٹل الاس ڈی وینزویلا ، اسرائیل کی ارکیا اسرائیل، آئر لینڈ کی سے ایئر اران، چلی کی ایل اے این ایئرلائنز، میکسیکو کی Aviacsa، Aeromexico ،کلک میکسیکانہ اور میکسیکانہ ایئر ویز اور پانامہ کی ایئروپرلاس کریں۔ درج ذیل ایئرلائنز کلی یا جزوی طور پر اپنی متعلقہ ریاستوں کی ملکیت ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…