ہفتہ‬‮ ، 07 مارچ‬‮ 2026 

تبلیغی جماعت پرپابندی ختم کرنے کیلئے کوشش تیزہوگئیں ،اہم رابطے

datetime 1  فروری‬‮  2016 |

کراچی (این این آئی)وفاق المدارس مجلس عاملہ کے رکن وجامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمدنعیم کا سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی سے ٹیلیفون پر گفتگو ، پنجاب کے تعلیمی اداروں میں تبلیغی وفود پر پابندی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ، پیر جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس سے ٹلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی نے پنجاب حکومت کے اس اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ شریف براداران کا یہ اقدام قابل مذمت ہے تبلیغ ایک پرامن غیر سیاسی پلیٹ فارم ہے جس کا تشدد اور دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں یہ پابندی غیر قانونی،غیر آئینی اور شرمناک ہے۔ پاکستان کے تشخص کو مجروح کرنے کی کوشش ہے اس سلسلے میں علماء کرام اور مذہبی طبقے کے ساتھ کھڑے ہیں اور جلد پنجاب حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کرکے ان کو تحفظات سے آگاہ کریں گے ۔ اس موقع پر مفتی محمدنعیم نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب حکومت کی جانب سے ایک مخصوص مکتبہ فکر کے خلاف کاروائیاں افسوسناک اور قابل مذمت ہیں ، تبلیغی وفود پر تعلیمی اداروں میں پابندی سے نسل نو کو دین سے دورکرنے کی کوشش ہے ، ملک وملت سے مخلص سیاستدانوں کو تبلیغی وفود پر اس بلاجواز پابندی کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ چاروں صوبوں میں قومی ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق علمدرآمد کرائے ، ماضی کی طرح دہشت گردی ختم کرنے کے نام پر ملک کو دہشت گردی کی طرف نہ دھکیلا جائے ، تمام مکاتب فکر اور مذہبی جماعتوں کا متحد ہونا ناگزرہوچکاہے ،انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کے غلط رویے اور ملک دشمن پالیسیاں ملکی ترقی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں ،انہوں نے کہاکہ حکمران آئین وقانون کو اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے استعمال کررہے ہیں ، تبلیغی وفود پر پابندی غیر قانونی،غیر آئینی اور شرمناک ہے قومی ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل ہونا چاہیے ، انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے واقعات سے اسلام اور مذہب کا نہ پہلے کوئی تعلق تھا اور نہ اب ہے دہشت گردی کی مخالفت کے نام پر مخصوص مکتبہ فکر کو نشانہ بنایاجاتاہے جس سے مذہبی طبقات میں شدید تشویش پھیل رہی ہے ، انہوں نے کہاکہ جب قومی ایکشن پلان شروع ہوا تو اس وقت سب پہلے اور کھل کر مذہبی طبقے نے حمایت کی اور دہشت گردی کیخلاف ہر قسم کے تعاون کی حکومتوں کو یقین دھانی کرائی اس کے باوجود بلوچستان ،پنجاب اور سندھ میں مدارس کیخلاف کاروائیاں کی گئی اور ہزاروں مکاتب کو بند کردیا گیا ، انہوں نے کہاکہ پنجاب اور مرکز میں مسلم لیگ کی حکومت ہے جن کے اقدامات سے واضح ہوتاہے کہ پنجاب میں ایک مخصوص مکتبہ فکر کو سرکاری سطح پر کچلنے کی کوششیں کی جارہی ہیں جوکہ قابل مذمت اور ملک کے نقصان کا باعث ہے، انہوں نے اعلیٰ حکام، چیف جسٹس آف پاکستان ،وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیاکہ وہ پنجاب حکومت کے اقدام پر فوری نوٹس لیں اور شہباز شریف کو عہدے سے فوری طور پر ہٹادیا جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…