بدھ‬‮ ، 22 اپریل‬‮ 2026 

لیاری گینگ وار کا مرکزی کردار عذیر جان بلوچ جرائم کی دنیا میں کیسے آیا؟جانیئے عذیر بلوچ کی زندگی کی کہانی

datetime 1  فروری‬‮  2016 |

کراچی(نیوزڈیسک)لیاری گینگ وار کا مرکزی کردار عذیر جان بلوچ اپنے والد کے اغواء اور بہیمانہ قتل کے بعد قانون شکن بنا۔ عزیر جان بلوچ جرائم کی دنیا میں کیسے آیا، کس نے ساتھ دیا اور اس نے کس کی حمایت سے لیاری کو جرائم کا دارالحکومت بنایا۔عزیر جان بلوچ جرائم کی دنیا میں حادثاتی طور پرآیا، جب ارشد پپو گروپ نے اس کے ٹرانسپورٹر باپ فیضو ماما کو اغوا کے بعد قتل کیا تو رحمان ڈکیت نے اسے اپنے گینگ میں شامل کرلیاپھر 2009ءمیں ایک وقت وہ بھی آیا جب پولیس مقابلے میں رحمان ڈکیت کے مارے جانے کے بعد اس نے گینگ کی سربراہی سنبھال لی۔کچھ جرائم پیشہ دوستوں کی سنگت کا اثر تھا اور کچھ سیاسی حمایت کا جادو، اس کے بعدعزیر بلوچ نےپیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، اس کے مسلح کارندے کراچی کے کاروباری و صنعتی علاقوں میں خوف و دہشت کی علامت بن گئے، جہاں بھتہ خوری اور قتل و غارت کا بازار گرم رہتا۔فشریز میں کروڑوں اربوں روپے کی کرپشن ہو یا سمندری اور زمینی راستوں سے ہونے والی منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ، شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں کیا گیا وحشیانہ قتل عام ہو، یا لوگوں کو چلتی بسوں سے ا±تار کر ٹکڑے ٹکڑے کرکے پھینکنے کی بربریت، کوئی تاجر گولیوں سے چھلنی ہوا ہو، یا کسی حریف کا سر کاٹ کر فٹ بال کھیلی گئی ہو، ان سارے جرائم کے ڈانڈے عزیر بلوچ ہی سے ملائے جاتے ہیں۔دوسری جانب یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پیپلزپارٹی غیر علانیہ طور پر عزیر بلوچ کو سپورٹ کرتی رہی ہے۔عزیز بلوچ سے وزیراعلیٰ سندھ، شرجیل میمن، فریال تالپور اور دیگر کی ملاقاتیں بھی سامنے آچکی ہیں۔اس متنازع اتحاد کے شیشے میں بال 2012 ءمیں ا±س وقت پڑا جب عزیر بلوچ نے پیپلزپارٹی کے سرکردہ رہنما اویس مظفر عرف ٹپی کو لیاری سے الیکشن لڑنے سے روک دیا۔ردعمل یہ آیا کہ اپریل 2012 ءمیں لیاری گینگ وار کے خلاف آپریشن شروع کردیا گیا جو مقامی لوگوں اور اندرونی ذرائع کے مطابق مکمل سیاسی مقاصد کی وجہ سے کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(تیسرا حصہ)


ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…