پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

ممتاز قادری کی رہائی ،بڑے اقدام کا فیصلہ

datetime 28  اکتوبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)تنظیمات اہلسنت و ممتاز حسین قادری رہائی تحریک کے زیر اہتمام داتا دربار سے پنجاب اسمبلی تک تحفظ ناموس رسالت مارچ کیا گیا ۔مارچ کی قیادت مولانا خادم حسین رضوی، ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی ، پیر محمد افضل قادری نے کی۔مارچ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا خادم حسین رضوی، ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی ، پیر محمد افضل قادری،پیر سید محمد عرفان شاہ مشہدی ، میاں ولید احمد شرقپوری ودیگر قائدین نے کہا کہ غازی ممتاز قادری کو سزا دینے سے سے کروڑوں مسلمانوں کے دل زخمی ہوئے، کسی دور میں بھی کسی مسلمان حکومت نے گستاخ کو واصلِ جہنم کرنے والے کسی عاشقِ رسول ﷺ کے بارے میں ایسا فیصلہ نہیں کیا۔اس سے گستاخانہ کلچر عام ہونے کے خدشات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے عاشق رسول غازی علم الدین شہید کی رہائی کیلئے انگریز کی عدالت انگریز کے بنائے ہوئے قانون کے خلاف رہائی کیلئے پیروی کی لیکن انگریز کے قانون نے غازی علم الدین شہید کو پھانسی کی سزا دی ۔ آج پاکستان کا آئین و قانون انگریز کا پابند نہیں بلکہ قرآن و سنت کا پابند و تابع ہے ۔ لہٰذا ممتاز قادری کا کیس آئین کی اساس کے مطابق شرعی عدالت میں چلایا جائے۔ ممتاز قادری کی رہائی کیلئے ہر عاشق رسول ﷺ شرعی و آئینی جدو جہد جاری رکھے گا۔ حکومت اس مسئلہ کی حساسیت کا خیال رکھتے ہوئے غازی ممتاز حسین قادری کو فوراً با عزت رہا کرے۔آسیہ ملعونہ کا کیس سپریم کورٹ میں چلایا جائے اور ملعونہ کو سزائے موت دی جائے۔ ہم حکومت کو 10 دن کا الٹی میٹم دے رہے ہیں حکومت دس دنوں کے اندر اندرہمارا مطالبہ پورا کرے بصورت دیگر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے لئے علماءو مشائخ کے ملک گیر مشاورتی اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ اس موقع پررہائی تحریک کے چیر مین ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی کے ہاتھ پر ہزاروں علماءو مشائخ اور عوام الناس نے ناموس رسالت ﷺ اور تحریک غازی ممتاز حسین قادری کو کامیاب اور منظم بنانے کیلئے شہادت اور گرفتاریاں پیش کرنے کی بیعت کی گئی۔رہائی تحریک کے سرپرست اعلیٰ شیخ الحدیث حافظ خادم حسین رضوی نے پیش کیے گئے لائحہ عمل کی بھرپور تائید کی۔ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، صاحبزادہ رضائے مصطفےٰ نقشبندی، صاحبزادہ حامد رضا سیالکوٹی، قاضی محمود اعوان قادری، پیر مختار اشرف رضوی ، پیر محمد ظہیرالحسن شاہ، پیر محمد شفیق کیلانی، پیر سید سیف اللہ ، سید محمد انیس المجتبیٰ، سید خرم ریاض شاہ ودیگر علماءو مشائخ بھی موجود تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…