منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

پنجاب سے تعلق رکھنے والے 214 انتہائی خطرناک دہشتگرد صوبے سے فرار

datetime 17  جون‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق ان دہشتگردوں کی جانب سے مدرسوں میں دہشتگردی پھیلانے، فرقہ واریت کو فروغ دینے، بوگس این جی اوز کے ذریعے انتہائی خفیہ معلومات حاصل کرتے ہوئے دہشتگردی کے واقعات کرنے اور نوجوانوں کو دہشتگردی کی طرف راغب کرنے سمیت غیر ملکی دشمن ایجنسیوں کے ایجنڈے کے تحت پنجاب میں بدامنی پھیلانے کے لئے کئی کارروائیاں اور اقدامات کئے گئے۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی جانب سے ان دہشتگردوں کی فہرست مرتب کرتے ہوئے اور ان کیخلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرنے کیلئے تین پلان مرتب کر لئے گئے ہیں۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے ان انتہائی خطرناک دہشتگردوں کی فہرست ملنے کے بعد حساس اداروں کی رپورٹس کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کو حراست میں لینے کے لئے اقدامات کرنے کے لئے لائحہ عمل مرتب کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حساس ادارے کی جانب سے ایک رپورٹ محکمہ داخلہ پنجاب کو بھیجوائی گئی جس میں کہا گیا کہ یہ انتہائی خطرناک دہشت گرد ہیں جنہوں نے صوبہ بھر میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے لئے لاہور، راولپنڈی سمیت بڑے شہروں میں دھماکے کئے ہیں جبکہ ان سے تعلق رکھنے والے اور کالعدم تنظیموں کے سینئر عہدیداروں جنہوں نے ماضی میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی ہے۔ اب یہ پنجاب میں موجود نہیں ہیں۔ ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تمام قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی جانب سے ان کی گرفتاریوں کے آپریشن کئے جا رہے ہیں اور ان کے ایسے مقامات جہاں پر وہ منصوبہ بندی ماضی میں کرتے رہے ہیں یا ایسے افراد جو ان کے ساتھ ماضی میں رابطے میں رہے ہیں ان سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر داخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ نے تصدیق کرتے ہوئے “ایک قومی اخبار” کو بتایا کہ اس وقت دو سو سے زائد انتہائی خطرناک دہشت گرد ہیں پنجاب سے غائب ہیں۔ ان دہشت گردوں نے صوبے میں دہشت گردی پھیلانے اور غیر ملکی خفیہ اداروں کے مذموم ایجنڈے کے تحت بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی۔ ان کے خلاف ثبوت قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی جانب سے اکھٹے کر لئے گئے ہیں۔ جبکہ تمام انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے ان افراد کو حراست میں لینے کےلئے منصوبہ بندی کر لی ہے اوران افرادکوجلد گرفتارکرلیاجائے گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…