اتوار‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2025 

اپنے مفاد میں آئینی ترمیم راتوں رات جبکہ عوام کیلیے برسوں نہیں ہوتی، سپریم کورٹ

datetime 4  مارچ‬‮  2015
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں
اسلام اباد نیوز ڈیسک)سپریم کورٹ نے قانون کی کتابوں کی غلط اشاعت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے قواعد وضع کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ حکمرانوں کے پاس اپنے کاموں کے لیے توبہت وقت ہے مگرعوام کے لیے نہیں۔جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں فل بینچ نے قانونی کتب میں غلطیوں کے مقدمے کی سماعت کی۔ سیکریٹری لاکمشین نے عدالت کوبتایا کہ قانونی کتب کی درست اشاعت کیلیے قواعد بنائے جارہے ہیں جس کے بعداشاعتی اداروں کو باقاعدہ لائسنس جاری کیے جائیں گے، غلط اشاعت پرلائسنس منسوخ کردیا جائے گا۔ جسٹس جواد نے کہاکہ کابینہ کو بھیجنے کامطلب ہے کہ کچھ نہیں ہونا، منظوری کا کوئی ٹائم فریم دیں اورکوئی ذمے داریقین دہانی کرائے کہ اتنے دن میں منظور ہوجائے گا ورنہ جب بھی پوچھیں گے کہہ دیاجائے گا کہ وزیراعظم ٹمبکٹوگئے ہیں اس لیے منظوری نہیں ہوسکی۔ عدالت نے جوائنٹ سیکریٹری وزارت قانون کو ہدایت کی کہ اج بدھ کو تحریری طورپر بتائیں کہ مذکورہ رولزکب بنیں گے۔ عدالت نے یہ ہدایت بھی کی جوائنٹ سیکریٹری قانونی کتابوں کی درست اشاعت کانظام بنانے کا ٹائم فریم دیں۔
جسٹس جوادایس خواجہ نے پولیس کے خلاف انفرادی شکایات کے مقدمات اصلاحات کے مقدمے سے الگ کرکے سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی جبکہ اصلاحات کا مقدمہ 25 مارچ کو سناجائے گا۔ فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ لوگوں کا جینا حرام ہوچکا ہے، لوگ دم گھٹنے سے مرنے کے لیے تیارہیں لیکن ملک میں رہنے کے لیے تیارنہیں۔ لوگ کنٹینرمیں دم گھٹنے سے مرجاتے ہیں لیکن پھربھی ہرشخص بھاگنے کو تیارہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پروفیسر غنی جاوید


’’اوئے انچارج صاحب اوپر دیکھو‘‘ آواز بھاری…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…