جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

حکومت نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کی باضابطہ تصدیق کردی

datetime 29  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ استنبول میں اسلام آباد اور کابل کے درمیان ہونے والی حالیہ بات چیت کسی قابلِ عمل نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔ تاہم، پاکستان اپنے شہریوں کو دہشت گردی کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

ایک سرکاری بیان میں عطااللہ تارڑ نے بتایا کہ پاکستان نے متعدد بار افغان طالبان سے رابطہ کیا اور انہیں بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنے خدشات سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغان حکام سے بارہا مطالبہ کیا کہ وہ دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل کریں، مگر افسوس کہ افغان عبوری حکومت نے پاکستان مخالف عناصر کی پشت پناہی ختم نہیں کی۔

وفاقی وزیر کے مطابق طالبان حکومت کا رویہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ افغان عوام کے مفاد کے بجائے اپنی جنگی معیشت کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے قربانیاں دیں، لیکن پچھلے چار برسوں میں بھاری جانی و مالی نقصان کے بعد اب پاکستان کی صبر کی حد ختم ہو چکی ہے۔

عطااللہ تارڑ نے بتایا کہ قطر اور ترکیہ کی درخواست پر پاکستان نے افغان طالبان سے پہلے دوحہ اور پھر استنبول میں مذاکرات کیے، جن کا واحد ایجنڈا یہ تھا کہ افغان سرزمین کو دہشت گرد تنظیموں کے مرکز یا تربیتی اڈوں کے طور پر استعمال ہونے سے روکا جائے۔ انہوں نے دونوں ممالک کا مذاکرات کی میزبانی پر شکریہ بھی ادا کیا۔

ان کے مطابق مذاکرات کے چار روز میں افغان وفد نے بظاہر پاکستان کے موقف سے اتفاق تو کیا اور مہیا کیے گئے ٹھوس شواہد کو تسلیم بھی کیا، مگر کسی مرحلے پر یقین دہانی نہیں کروائی۔ انہوں نے کہا کہ افغان فریق مسلسل اصل مسئلے سے پہلو تہی کرتا رہا اور بات چیت کے دوران الزام تراشی اور وقت گزاری کی پالیسی اپنائی، جس کے باعث مذاکرات کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پاکستان کے عوام کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔ حکومت دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور ٹھکانوں کے خلاف تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔ عطااللہ تارڑ نے ایک بار پھر قطر، ترکیہ اور دیگر دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرامن حل کی کوشش کی تاکہ دونوں ممالک اور خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…