پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

ایس پی عدیل اکبر کی موت کیسے ہوئی؟ پولیس نے انکوائری رپورٹ مرتب کرلی

datetime 27  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایس پی عدیل اکبر کی موت سے متعلق پولیس کی انکوائری رپورٹ مکمل کر لی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ایس پی عدیل اکبر نے خودکشی کی تھی۔ تفتیشی کمیٹی نے ان کے ڈرائیور، آپریٹر اور معالج سمیت دیگر افراد کے بیانات قلمبند کیے۔

رپورٹ میں شامل ڈاکٹر کے بیان کے مطابق عدیل اکبر طویل عرصے سے شدید ذہنی دباؤ اور “ڈیپ روٹیڈ اسٹریس” کا شکار تھے۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ اس قسم کے ذہنی دباؤ کے لیے کسی اچانک واقعے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ متاثرہ شخص ماضی کے تلخ تجربات کے دباؤ میں مسلسل رہتا ہے۔

تحقیقات کے مطابق ایس پی عدیل اکبر نے 8 اکتوبر کو اپنے معالج سے معمول کا چیک اپ کرایا تھا۔ اس موقع پر ڈاکٹر نے ان سے دفتری دباؤ کے بارے میں دریافت کیا تو عدیل اکبر نے جواب دیا کہ وہ اسلام آباد میں مطمئن ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ پروموشن نہ ہونے کی وجہ سے دلبرداشتہ رہتے تھے اور کئی بار خودکشی کے خیالات کا ذکر بھی کر چکے تھے۔ ڈاکٹر نے ان کی فیملی کو اسلحہ اور تیز دھار اشیاء ان کی پہنچ سے دور رکھنے کی ہدایت بھی کی تھی۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ عدیل اکبر کے خلاف بلوچستان میں ایک انکوائری دو سال تک جاری رہی تھی، جس کی رپورٹ ایس ایس پی معروف نے تیار کی تھی۔ اس رپورٹ پر اس وقت کے ایڈیشنل آئی جی نے انہیں سزا بھی دی تھی، جس کے نتیجے میں وہ دو بار ترقی سے محروم رہے۔

ذرائع کے مطابق عدیل اکبر کو تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل اسلام آباد میں تعینات کیا گیا تھا تاکہ ان کی پروموشن ممکن بنائی جا سکے۔ انہیں ان کے کورس میٹ ایس پی خرم کی سفارش پر اسلام آباد بلایا گیا اور شولڈر پروموشن کے ساتھ ایس پی انڈسٹریل ایریا کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ یہاں وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے رہے تھے اور کشمیر میں بھی ایک آپریشن میں حصہ لیا تھا، تاہم مریدکے کے آپریشن میں شریک نہیں ہوئے۔

پولیس رپورٹ کے مطابق خودکشی سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ قبل وہ اپنی گاڑی میں 35 منٹ تک گھومتے رہے۔ بعد ازاں گھر گئے اور کچھ دیر بعد اپنے ڈرائیور اور آپریٹر کو دوبارہ گھر بلا کر سیکرٹریٹ روانہ ہوئے، جہاں ان کی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکشن آفیسر سے ملاقات طے تھی۔

تاہم، 4 بج کر 23 منٹ پر سیکشن آفیسر نے انہیں فون پر بتایا کہ وہ دفتر سے جا چکے ہیں اور اگلی بار ملاقات ممکن ہوگی۔ اس کے بعد عدیل اکبر نے یو ٹرن لیا اور دفترِ خارجہ کے قریب پہنچے۔ اس دوران انہیں ایس پی صدر یاسر کی کال موصول ہوئی، جس میں سبزی منڈی کے ایک واقعے پر بات ہوئی۔ کال ختم ہونے کے کچھ ہی دیر بعد عدیل اکبر نے اپنے آپریٹر سے سرکاری اسلحہ لیا اور خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…