جسٹس فائز کی اہلیہ سرینا دلائل دیتے ہوئے مرحوم والد کے ذکر پر آبدیدہ ہو گئیں

  منگل‬‮ 20 اپریل‬‮ 2021  |  17:38

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس فائز کی اہلیہ سرینا عیسیٰ دلائل دیتے ہوئے مرحوم والد کے ذکر پر آبدیدہ ہو گئیں اور کہا ہے کہ عدالت کے آرڈر کے باوجود خفیہ رپورٹ ہمیں موصول نہیں ہوئی، میرے ٹیکس معاملات ذاتی ہیں، میرے شوہر سے بھی خفیہ ہیں،میرے ذاتی ٹیکسمعاملات پر مبنی ایف بی آر کی رپورٹ تمام ججز نے پڑھی، ایف بی آر کا میرے ٹیکس معاملات کی رپورٹ میرے علم میں لائے بغیر جمع کرانا غیر قانونی ہے،19 جون 2020ء کا فیصلہ حنیف


عباسی بنام عمران خان کے حکم کے منافی ہے، آرٹیکل 19 اے فیئر ٹرائل کا حق دیتا ہے جس کی خلاف ورزی ہو۔جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کا 10 رکنی فل کورٹ نے کیس کی سماعت کی ۔دورانِ سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کمرہ عدالت میں موجود تھے، جسٹس مقبول باقر نے جسٹس قاضی فائز کی اہلیہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ مسز عیسیٰ آپ سے درخواست ہے کہ کم سے کم وقت میں دلائل مکمل کریں۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ صرف یہ بتا دیں کہ سپریم کورٹ کے 20 جون 2020ء کے فیصلے میں کیا غلطی تھی؟جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز بینچ نے ایف بی آر کی سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجی گئیخفیہ رپورٹ ہمیں دینے کی ہدایت کی، آرڈر کے باوجود خفیہ رپورٹ ہمیں موصول نہیں ہوئی، میرے ٹیکس معاملات ذاتی ہیں، میرے شوہر سے بھی خفیہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ میرے ذاتی ٹیکس معاملات پر مبنی ایف بی آر کی رپورٹ تمام ججز نے پڑھی، ایف بی آر کا میرے ٹیکسمعاملات کی رپورٹ میرے علم میں لائے بغیر جمع کرانا غیر قانونی ہے، دو سال سے میری زندگی ٹاک شوز میں زیرِ بحث ہے، فواد چوہدری، شہزاد اکبر، فردوس عاشق اعوان اور ٹی وی چینلز نے میری نجی زندگی پبلک کی، ایک اخبار نے ایف بی آر رپورٹ کے آدھے سچ شائع کیئے جوان کو غیر قانونی طور پر دیئے گئے۔سرینا عیسیٰ نے کہا کہ میں دو سال میں ہزار بار مرچکی ہوں، مجھے مزید مشکلات میں نہ ڈالا جائے، میرے شوہر کو ایف بی آر نے طلب نہیں کیا، نہ مجھے سپریم جوڈیشل کونسل نے بلایا، ایف بی آر کے چیئرمین کا رپورٹ پیش کرنا غیر قانونی ہے۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کسی فریق کے درخواست کرنے پر عدالت میں جمع خفیہ رپورٹ نہیں دی جاسکتی۔سرینا عیسیٰ نے کہا کہ میں نے رپورٹ کیلئے درخواست نہیں کی، عدالت نے خود دینے کا حکم دیا، سپریم کورٹ کا مجھے ایف بی آر بھیجنے کا حکم درست نہیں تھا، میںنے 18 جون 2020ء کو اپنی ٹیکس، پیسے ٹرانسفر کی تمام تفصیلات عدالت میں جمع کرائیں، عدالت نے فیصلہ کرتے ہوئے میری دستاویزات کا درست جائزہ نہیں لیا۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے سرینا عیسیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی کراچی اسکول کی آمدن اور کلفٹن سے کرائےکی رقم کو ایف بی آر نے نظر انداز کیا، آپ مرکزی مقدمے میں فریق نہیں تھیں، آپ نے خود پیش ہو کر کہا کہ میں عدالتی کارروائی میں شامل ہونا چاہتی ہوں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ بات حقائق کے منافی ہے، فروغ نسیم عدالت میں آ کر جادوئی باتیں کرتے تھے،اب فروغ نسیم عدالت میں نہیں آتے، فروغ نسیم سچ کے سامنے کھڑے نہیں ہو سکتے، وہ کبھی سلائی مشینوں کی اور کبھی ادھر اْدھر کی باتیں کرتے تھے۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ہدایت کی کہ آپ عدالتی کارروائی میں مداخلت نہ کریں، آپ اپنی نشستپر جاکر بیٹھ جائیں۔پھر انہوں نے سرینا عیسیٰ سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ پہلی بار دلائل دے رہی ہیں، اس لیے بینچ سوال پوچھ رہا ہے۔سرینا عیسیٰ نے جواب دیا کہ میں بینچ کے سوالات لکھ لیتی ہوں پھر آخر میں جواب دوں گی۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے سرینا عیسیٰ سے سوال کیا کہآپ نے بیرونِ ملک جعلی اکائونٹ نہیں کھولا؟ آپ نے ٹرسٹی اکائونٹ کا سہارا بھی نہیں لیا؟ آپ نے تمام رقوم کی منتقلی بینک کے ذریعے کی؟ پاکستان سے جو رقم باہر بھیجی وہ خریدی گئی جائیدادوں کی مالیت سے مطابقت رکھتی ہے؟انہوں نے کہا کہ آپ نے وضاحت 5 اگست 2009ء کےبعد سے دینی ہے، 5 اگست 2009ء کو آپ کے شوہر چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ بنے تھے، 2009ء کے بعد 2 جائیدادوں پر سوالیہ نشان ہے، 2009ء سے پہلے آپ کے شوہر پبلک آفس ہولڈر نہیں تھے، ہمیں یہ بھی علم ہے کہ آپ مالی طور پر پہلے سے مستحکم ہیں۔سرینا عیسیٰ نے جواب دیا کہ مجھ پر اللّٰہ تعالیٰ کا فضل ہے۔جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ آپ پْر اعتماد انداز میں دلائل دیں، ہم فیصلے میں غیر قانونی اور غیر آئینی نکات کا جائزہ لے رہے ہیں۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ عدالت کا بنیادی سوال ہے کہ ریفرنس ایف بی آر بھیجنے سے قبلآپ کو سننا کیوں ضروری تھا؟سرینا عیسیٰ نے جواب دیا کہ 19 جون 2020ء کا فیصلہ حنیف عباسی بنام عمران خان کے حکم کے منافی ہے، آرٹیکل 19 اے فیئر ٹرائل کا حق دیتا ہے جس کی خلاف ورزی ہوئی۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ اپنا 19 جون 2020ء کا عدالت میں دیا گیا بیاندیکھیں، آپ کو سنا گیا تھا، اس بات سے اتفاق ممکن نہیں کہ آپ کو موقع نہیں دیا گیا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ نے جو دستاویزات عدالت میں جمع کرائیں ان پر دلائل دیں۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پہلے میں نے سوال کیا مجھے جواب دیں، آپ نے اپنے بیان میں کہاتھا کہ ججز مجھ سے کیوں نہیں پوچھتے، آپ عدالت آنا چاہتی تھیں تاہم آپ کے شوہر نہیں چاہتے تھے، آپ نے رضاکارانہ طور پر اپنا موقف عدالت میں پیش کیا تھا۔سرینا عیسیٰ نے کہا کہ اپنے والد کی وجہ سے عدالت آئی تھی۔ نجی ٹی وی کے مطابق سرینا عیسیٰ اپنے مرحوم والد کا ذکرکرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں۔جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ آپ کو کافی سن لیا ہے، اب آپ بیٹھ جائیں۔سرینا عیسیٰ نے دلائل مکمل کر لیے۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ میرا مقصد آپ کو اداس کرنا نہیں تھا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جج بننے سے قبل 31 لاکھ ماہانہ کماتا تھا، حکومتکے مطابق تو آج بھی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہوں، میرے کیس میں ایک نہیں تین سوموٹو نوٹس لیے گئے۔جسٹس عمر عطائ بندیال نے کہا کہ آپ کا بنیادی نکتہ ہے کہ آپ کو سماعت کا موقع نہیں ملا، عدالت میں دیا گیا اپنا بیان نہیں پڑھیں گے تو منفی تاثر جائے گا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےکہا کہ اگر عدالت سمجھتی ہے کہ باضابطہ سماعت ہوئی تو ٹھیک ہے، میری اہلیہ اپنے بیان سے نہیں مکر رہیں، عدالت سرینا عیسیٰ کی بات سے متفق نہیں تو درخواست خارج کر دے، کل آپ کی بیویاں بھی یہاں کھڑی ہو سکتی ہیں۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کسی سائل سے قانون کالیکچر نہیں لے سکتے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جج اور ججز کے خاندان کے بارے میں کوئی دھوکا نہیں ہونا چاہئے، اس کیس میں 3 از خود نوٹس ہوئے، ایک از خود نوٹس سپریم کورٹ، ایک سپریم جوڈیشل کونسل اور ایک ایف بی آر نے لیا، از خود نوٹس مفادِ عامہ کے معاملاتپر لیے جاتے ہیں، اس میں کون سا مفاد تھا؟جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ آپ بس یہ بتادیں کہ ایف بی آر کو ریفرنس بھیجنا کیسے غیر قانونی تھا؟ ان سوالات پر آپ کو یا کسی کو جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں، ہمیں تکلیف ہے کہ سرینا عیسیٰ کو سوالوں سے ضرر پہنچی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم ان میں سے ہیں جنہوں نے ملک بنایا، ملک کے لیے جان بھی دے دیں گے، میں اپنی ذات پر نہیں ملک کے لیے جذباتی ہوتا ہوں، میں آخری مجاہد ہوں گا جو اس ادارے اور ملک کیلئے لڑتا رہوں گا، ایف بی آر شہزاد اکبر کی ملکیت ہے، ایف بی آر کیتحقیقات بدنیتی پر مبنی ہیں۔انہوں نے کہا کہ صدر صاحب نے عبدالوحید ڈوگر کی بات پر انحصار کر کے ریفرنس بھیجا، فیض آباد دھرنے میں جو فیصلہ دیا اس پرعمل ہوتا تو آج یہ نہ ہو تا، 12 مئی کے ذمے داران کے خلاف کارروائی ہوئی ہوتی تو آج وہ دبئی نہ بیٹھا ہوتا، آپ اگر دستاویزاتپر انحصار کرنا نہیں چاہتے تو آپ کی مرضی، اللّٰہ تعالیٰ مجھے غرق کریں اگر میں اس کرسی کا خواہشمند ہوں۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ معذرت خواہ ہوں کہ آپ سوالات سے رنجیدہ ہو رہے ہیں، آپ کی باتیں قبول کرنے کیلئے ہمیں قانونی راستہ چاہیے، سرینا عیسیٰ نے بہتٹھوس باتیں کیں، اگر آپ کو اس معاملے سے خود کو نکالنا ہے تو قانونی نکتے پر دلائل دیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوئی بھی جج بنے تو اپنی اہلیہ سے پوچھ لے کہ مجھ پر جو عذاب گزریں گے اس کیلئے تیار ہو۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ آپ صرف 3 سوالوں کے جوابدے دیں، کیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنی اہلیہ کے بینک اکائونٹ سے مکمل لا تعلق ہیں؟ بیرونِ ملک جائیدادیں خریدنے کیلئے جو رقم باہر بھیجی، کیا جسٹس فائز عیسیٰ کا اس سے کوئی قانونی تعلق نہیں؟ کیا جائیداد کی خریداری کیلئے جو اخراجات کیئے ان کا جسٹس فائز عیسیٰ سے کوئیتعلق نہیں؟انہوں نے کہا کہ میں ہر روز یہ آیت پڑھتا ہوں کہ مجھ سے کوئی غلط فیصلہ نہ ہو جائے، آپ نے یہاں اتنی باتیں سنائیں، ہم نے سنیں، آپ اس سب کو درگزر کریں، میں بھی جذباتی ہو سکتا ہوں، لیکن نہیں ہو رہا، ہم ریکارڈ کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں، جو محبت آپ سے ہےاس کا اظہار عدالت میں نہیں کر سکتے، آپ کو حکومت کو جو بھی کہنا ہے عدالت سے باہر کہیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ نے معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کا حکم چیلنج کیا ہے، عدالتی حکم برقرار رہا تو آپ کی ایف بی آر سے شکایات متعلقہ فورم پر ہو گی۔سرینا عیسیٰ نے کہا کہ عمران خان نے آف شور کمپنی کو تسلم کیا تھا، عمران خان کے لیے جو معیار رکھا گیا وہ میرے لیے نہیں رکھا گیا، عمران خان سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں میں نہیں، عمران خان آج وزیرِ اعظم ہیں اور میں ایک عام شہری۔عدالتِ عظمیٰ نے کیس کی سماعت کل  جمعرات تک ملتوی کر دی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ عدالتی سوالات کے جوابات دیں گے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

درمیان

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎