کیا 500ارکان پارلیمنٹ میں سے ایک بھی ایسا نہیں جووزارت خزانہ کو چلا سکے؟ شبرزیدی نے حکومتی کارکردگی پر سوالات اٹھا دئیے صدارتی نظام لانے کا مشورہ

  ہفتہ‬‮ 17 اپریل‬‮ 2021  |  14:41

کراچی(این این آئی) فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے سابق چیئرمین شبر زیدی نے کہا کہ کیا500 ارکان پارلیمنٹ میں سے ایک بھی نہیں جو کچھ مخصوص وزارت چلا سکے؟، سوچنا چاہیے کہ پاکستان کے جیسے ترقی پذیر ممالک میں پارلیمانی نظام حکومت ناکام ہوچکا ہے۔ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبر زیدی نے حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھادیئے۔خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شبر زیدی نے کہا کہ اگر ٹیکنو کریٹس سے حکومت چلانی ہے تو پھر یہ سسٹم ختم کریں، صدارتی نظام لائیں۔انہوں نے کہاکہ 1947سے 2021 کے منتخب نمائندوں کی فہرست بنالیں کہ کوئی وزارت خزانہ میں


کامیاب ہوا یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی جماعت سے جو صاحب آئے ہوئے ہیں ان کو کام کرنے دے، کوئی بھی جماعت ہو پہلے فیصلہ کرے ٹیکنوکریٹس سے معیشت چلانی ہے یا خود چلانی ہے۔ سسٹم اس وقت چلے گا جب شوکت ترین بڑے بنیادی فیصلے کریں گے۔سابق چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ پہلا بنیادی فیصلہ دکانداروں کی ڈاکومینٹیشن پر ہاتھ ڈالنا ہوگا، بجلی کی سبسڈی سے متعلق آئی ایم ایف سے صاف بات کرنا ہوگی۔ شبر زیدی نے کہا کہ پاور سیکٹر کی نجکاری نہیں ہوگی اس پر وقت ضائع کرنے کا فائدہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ فیلڈر اگر ہر کیچ چھوڑتا رہے تو بولر کیا کرسکتا ہے۔ شبر زیدی نے کہا کہ گیارہ دن سے ہم سب کیا ڈھونڈ رہے تھے، 500 ارکان اسمبلی میں سے ایک بھی آدمی وزارت خزانہ کے لیے مناسب نہیں نکلا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

درمیان

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎