اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

ہزارہ برادری سے مذاکرات ،سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیو پر شدید ردعمل کے بعد زلفی بخاری نے بھی اپنا موقف پیش کردیا

datetime 7  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد،نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)کوئٹہ میں ہزارہ برادری سے ہونے والے مذاکرات کے معاملے پرردعمل دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے کہا کہ میری ان علما سے بڑی لمبی بات چیت ہوئی تھی لیکن اس سے ایک چھوٹا سا

کلپ لے کر سوشل میڈیا پر چلایا جا رہا ہے۔بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا تمام علما سے بڑا اچھا رشتہ ہے۔ میں انہیں کہہ رہا تھا کہ ایک الگ سے ہونے والے واقعے کو تین لاکھ کی آبادی سے نہ جوڑیں۔ یعنی آپ کو تین لاکھ لوگوں کا سوچنا ہے نہ کہ صرف گیارہ لوگوں کا۔ حالانکہ وہ عالم دین ہیں، میں ان کی اس بات سے متفق نہیں ہوں کہ وہ لوگوں کو مشورہ دیں کہ لاشیں روڈ پر رکھیں جب تک آپ کے تمام مطالبے پورے نہ ہوں۔زلفی بخاری نے کہا کہ ابھی تک صرف ایک ہی مطالبہ رہتا ہے جو ہے وزیرِ اعظم عمران خان کا کوئٹہ دھرنے میں شریک ہونااور جن سے میں بات کر رہا تھا وہ سوگوار خاندان سے نہیں تھے۔ ان کا ایک بھی رشتہ دار اس واقعہ میں شہید نہیں ہوا تھا۔ اس لیے میں ان سے کھل کر بات کر رہا تھا۔ یہ ان کے نوجوان علما دین سے بات ہو رہی تھی۔ تو یہ جو تاثر ہے کہ میں نے شہدا کے خاندان سے ایسے بات کی ہے، ایسی بات بالکل نہیں ہے۔ شرکا لاشیں دفن کریں، احتجاج ختم کریں، اس کے پانچ سے چھ دن

بعد عمران خان صاحب ان سے ضرور ملنے آئیں گے۔ ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے، دشمنوں کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونا ہے۔ دریں اثنااقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس اور جنرل اسمبلی کے صدر وولکان بوزکر نے مچھ میں اس دہشتگرد حملے کی مذمت کی ہے

جس میں مچھ میں 11 معصوم کوئلہ کنوں کی زندگیاں لے لی گئی تھیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق نائب ترجمان فرحان حق نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ سیکریٹری جنرل پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں دہشتگرد حملے اور 11 کان کنوں کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں اور

کان کنوں کے لواحقین اور پاکستان کے عوام اور حکومت سے اظہار افسوس کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ پاکستانی حکام اس دہشتگرادنہ عمل کے قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے جو ممکن ہوا وہ کریں گے،علاوہ ازیں ایک علیحدہ بیان میں

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکان بوزکر کا کہنا تھا کہ وہ دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں جس کے نتیجے میں 11 کوئلہ کان کنوں کی جانیں چلی گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں کان کنوں کے خاندانوں اور پاکستانی عوام سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔مزید برآں

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے ان دونوں کا شکریہ ادار کیا اور کہا کہ پاکستان نے بیرونی معاونت سے چلنے والے دہشت گرد گروہوں کے خلاف اپنی مہم میں بے مثال کامیابی دکھائی۔منیر اکرم کا کہنا تھا کہ لچک، صبر اور استقامت کے ساتھ ہم امن کے ان دشمنوں اور ہماری سرحدوں سے باہر محفوظ ٹھکانوں کا مزہ اٹھانے والے ان کے آقائوں کو شکست دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…