جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

” کرتا نیب ہے بھگتی سپریم کورٹ ہے” عدالت عظمیٰ نے قومی احتساب بیوروپر عدم اعتماد کا اظہا رکردیا

datetime 6  جنوری‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے باغ ابن قاسم کرپشن کیس میں ڈاکٹر ڈنشاہ کی ضمانت منظور کرلی جبکہ ججز نے ریمارکس دیئے ہیں کہ احتساب قانون کے مطابق نہیں ہوگا تو ادارے کیخلاف ایکشن لیں گے،نیب ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے نہ لگائے، چھوٹے

افسران کو پکڑ لیا اصل فائدہ لینے والے کو نہیں پکڑتے ہیں اور ملزم کو چھوڑنے کا الزام سپریم کورٹ پر آ تا ہے، ملک کو بچانا ہے یا نہیں، کرتا نیب ہے بھگتی سپریم کورٹ ہے۔ بدھ کو سپریم کورٹ میں باغ ابن قاسم کرپشن کیس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نے ریمارکس دیے کہ اس ملک کے ساتھ نیب کیا کر رہا ہے، اس سکینڈل کے اصل ملزم پر نیب نے ہاتھ نہیں ڈالا، نیب کے پاس اپنی مرضی سے کام کرنے کا اختیار نہیں، نیب نے اپنی مرضی کرنی ہے تو سیکش 9 میں ترمیم کرے پھر جو مرضی کرے۔جس پر پراسیکیوٹر جنرل نے جواب دیا کہ نیب اپنی مرضی نہیں کرتا، ملزم کو پکڑ کر 24 گھنٹوں میں احتساب عدالت میں پیش کردیا جاتا ہے۔عدالت نے کہا کہ نیب ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے نہ لگائے، چھوٹے افسران کو پکڑ لیا اصل فائدہ لینے والے کو نہیں پکڑتے ہیں اور ملزم کو چھوڑنے کا الزام سپریم کورٹ پر آ تا ہے، ملک کو بچانا ہے یا نہیں، کرتا نیب ہے بھگتی سپریم کورٹ ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے

کہا کہ ہم نیب سے مطمئن نہیں ہیں، نیب کو کام سے کون روکتا ہے ہمیں بتائیں تاکہ اسے پکڑیں، نیب کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی نے مجھ پر مہربانی کی تو میں اس پر مہربانی کروں، نیب کو بہادری اور اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔عدالت نے کہا

کہ نیب کی کارکردگی رپورٹ پڑی ہے، نیب نے اربوں روپے اکھٹے کیے ہیں، نیب پر سرکار کا ہی نہیں ہر طرف سے دباؤ ہوتا تاہم قانون کا اطلاق سب پر برابر ہونا چاہیے اور احتساب بھی قانون کے مطابق ہونا چاہیے، احتساب قانون کے مطابق نہیں ہوگا تو ادارے کیخلاف ایکشن لیں گے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ نیب بڑے آدمی پر ہاتھ نہیں ڈالتا لیکن بکری چور پانچ سال جیل جاتا ہے۔ جسٹس مظاہر علی نقوی نے کہا کہ نیب سرکاری افسروں کو سب پہلے گرفتار کر لیتا ہے لیکن نیب جس کیخلاف شواہد ہوں اسے گرفتار نہیں کرتا، پہلا ریفرنس دوسرا ریفرنس یہ کیا مذاق بنایا ہوا ہے۔نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے اوپر کوئی دباؤ نہیں کوئی کام سے نہیں روکتا اور ڈاکٹر ڈنشاہ کی درخواست ضمانت کی مخالفت نہیں کریں گے۔ بعد ازاں عدالت نے ڈاکٹر ڈنشاہ کی ضمانت منظور کرلی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…