ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

دبئی آکر ملازمت کی تلاش میں اپنا وقت اور رقم ضائع نہ کریں ورک پرمٹس پر حالیہ پابندی کے بعد پاکستانیوں کو خبر دار کردیا گیا

datetime 27  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد، دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی )ہزاروں پاکستانی وزٹ اور ٹورسٹ ویزہ جاری ہونے کے بعد ملازمتوں کی تلاش میں دبئی جا رہے ہیں۔ تاہم معروف دبئی حکام اور ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستانیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ملازمت کی تلاش میں

دبئی آ کر اپنا وقت اور رقم ضائع نہ کریں، کیونکہ فی الحال دبئی حکومت نے ورک پرمٹس کے اجرا پر پابندی لگا رکھی ہے جس کے باعث ملازمتیں نہیں مل رہیں۔ریکروٹمنٹ ایجنسیز کے مطابق اس وقت صرف سرکاری اور نیم سرکاری سٹاف اور گھریلو ملازمین کو ورک پرمٹ جاری کیے جا رہے ہیں، دیگر شعبوں کے ملازمین کے لیے ورک پرمٹ پر فی الحال پابندی ہے۔ ریکروٹنگ ایجنسی النمس کارپوریشن کے ترجمان شیراز مغل نے بتایا کہ جب تک دبئی کی حکومت نجی شعبے کے لیے ورک پرمٹس اور ایمپلائمنٹ ویزوں کا اجرا شروع نہیں کر دیتی، پاکستانی افراد ملازمت کی تلاش میں دبئی آنے کی غلطی نہ کریں۔دوسری جانب اماراتی کمپنی اوور سیز لیبر سپلائی کی جانب سے بھی خبردار کیا گیا ہے کہ اگرچہ مارکیٹ میں نئے کارکنوں کی ضرورت ہے، تاہم ورک پرمٹس پر سے پابندی ہٹنے تک لوگوں کو یہاں آنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ انہیں ملازمت مل بھی گئی تو ورک پرمٹ جاری نہیں ہو سکے گا۔ دبئی امیگریشن حکام کا بھی

کہنا ہے کہ جو لوگ ٹورسٹ ویزہ پر آ رہے ہیں انہیں انٹری کی شرائط پوری کرنا ہوں گی اور صرف سیاحت ہی کرنی ہو گی۔یہ لوگ سیاحتی ویزے پر نوکری کی تلاش میں نہ آئیں ورنہ انہیں بھی فورا ًڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے۔دریں اثنادبئی حکام کی جانب سے دبئی کا سفر کرنے والے

مسافروں کے لئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کر دی گئی،دبئی پہنچے والے مسافروں کی چغتائی لیبارٹری اور اسلام آباد ڈائیگنازٹک سروس سے کرائے گئے کرونا ٹیسٹ قابل قبول نہیں ہوں گے،یہ حکمنامہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گا،وہ لیبارٹریاں جو دبئی حکام کے ساتھ رجسٹر ہیں صرف ان سے کرائے گئے کرونا ٹیسٹ ہی دبئی ائر پورٹ ہر قابل قبول ہوں گے،یہ حکمنامہ پاکستان سے دبئی کی پروازیں آپریٹ کرنے والی تمام ایئر لائنوں پر لاگو ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…