ہفتہ‬‮ ، 01 اگست‬‮ 2026 

مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا پاکستان میں خیرات دینے کا کتنا جذبہ ہے،ہمیں عوام کی طاقت کا اندازہ ہی نہیں،وزیراعظم عمران خان کا کورونا بارے بھی اہم اعلان

datetime 19  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا کہ پاکستان میں خیرات دینے کا کتنا جذبہ ہے،ہمیں عوام کی طاقت کا اندازہ ہی نہیں ہے ،دنیا بھر میں صفائی کا نظام بہتر ہے ،پاکستان میں ایسی مثال نہیں ملتی ،لاہور میں ترقی کے نام پر 70 فیصد درخت ختم کردیئے گئے ، کراچی کی ساری گندگی سمندر میں ڈالی جاری ہے، اللہ کی نعمتوں کی قدر

نہ کرکے ہم ماحولیاتی تباہی کے دھانے پر پہنچ چکے ہیں،موسم سرما میں کورونا کیسز میں اضافہ ہوسکتا ہے،10 ارب درخت لگانے کا منصوبہ اور شہروں کو صاف کرنا ہمارے اہداف میں کلیدی ہے۔اسلام آباد میں کلین گرین انڈیکس انکر یجمنٹ ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں نوجوانوں میں رضا کارانہ خدمات کا بہت جذبہ ہے اور یہ مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اب بات کا اندازہ اس وقت ہوا جب میں شوکت خانم کیلئے عوام میں نکلا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں عوام کی طاقت کا اندازہ ہی نہیں ہے اور عوام کی طاقت استعمال نہ کرنے کی بڑی وجہ حکومت اور عوام کے مابین گہری خلیج ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں صفائی کا بہتر نظام ہے لیکن پاکستان میں ایسی مثال نہیں ملتی کیونکہ ہم نے اپنے سامنے اداروں کو تباہ ہوتے دیکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ترقی کے نام پر 70 فیصد درخت ختم کردیئے گئے ، لاہور میں آلودگی کا تناسب غیرمعمولی بڑھ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی شہر کی ساری گندگی سمندر میں ڈالی جاری ہے، ہر شاہراہ پر کچرا موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ انتظامیہ اور عوام مل کر شجر کاری پر توجہ دیں تاکہ آنے والی نسلوں کو سازگار ماحول فراہم کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اللہ کی نعمتوں کی قدر نہ کرکے ہم ماحولیاتی تباہی کے دھانے پر پہنچ چکے ہیں۔ پاکستان میں کورونا

سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عالمی ادارے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے تسلیم کیا کہ پاکستان ان چار ممالک کی فہرست میں شامل جہاں کووڈ 19 سے نمٹنے کیلئے بہترین فیصلے کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ کورونا کے عدم پھیلاؤ سے متعلق فیصلوں کو دنیا نے تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی فیصلوں سے معاشی تباہی سے بچے رہے جبکہ بھارت میں کورونا

سے متعلق غلط فیصلوں کے باعث بدترین معاشی اور انسانی بحران پیدا ہوا۔وزیراعظم نے خدشے کا اظہار کیا کہ موسم سرما میں کورونا کے کیسز میں اضافہ ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور، کراچی، فیصل آباد، پشاور سمیت دیگر شہروں

میں آلودگی زیادہ ہے اور موسم سرما میں پہلے ہی دیگر وائرس کا حملہ زیادہ ہوتا ہے ایسے میں کورونا وباء پھیل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 ارب درخت لگانے کا منصوبہ اور شہروں کو صاف کرنا ہمارے اہداف میں کلیدی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…