بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا پاکستان میں خیرات دینے کا کتنا جذبہ ہے،ہمیں عوام کی طاقت کا اندازہ ہی نہیں،وزیراعظم عمران خان کا کورونا بارے بھی اہم اعلان

datetime 19  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا کہ پاکستان میں خیرات دینے کا کتنا جذبہ ہے،ہمیں عوام کی طاقت کا اندازہ ہی نہیں ہے ،دنیا بھر میں صفائی کا نظام بہتر ہے ،پاکستان میں ایسی مثال نہیں ملتی ،لاہور میں ترقی کے نام پر 70 فیصد درخت ختم کردیئے گئے ، کراچی کی ساری گندگی سمندر میں ڈالی جاری ہے، اللہ کی نعمتوں کی قدر

نہ کرکے ہم ماحولیاتی تباہی کے دھانے پر پہنچ چکے ہیں،موسم سرما میں کورونا کیسز میں اضافہ ہوسکتا ہے،10 ارب درخت لگانے کا منصوبہ اور شہروں کو صاف کرنا ہمارے اہداف میں کلیدی ہے۔اسلام آباد میں کلین گرین انڈیکس انکر یجمنٹ ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں نوجوانوں میں رضا کارانہ خدمات کا بہت جذبہ ہے اور یہ مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اب بات کا اندازہ اس وقت ہوا جب میں شوکت خانم کیلئے عوام میں نکلا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں عوام کی طاقت کا اندازہ ہی نہیں ہے اور عوام کی طاقت استعمال نہ کرنے کی بڑی وجہ حکومت اور عوام کے مابین گہری خلیج ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں صفائی کا بہتر نظام ہے لیکن پاکستان میں ایسی مثال نہیں ملتی کیونکہ ہم نے اپنے سامنے اداروں کو تباہ ہوتے دیکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ترقی کے نام پر 70 فیصد درخت ختم کردیئے گئے ، لاہور میں آلودگی کا تناسب غیرمعمولی بڑھ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی شہر کی ساری گندگی سمندر میں ڈالی جاری ہے، ہر شاہراہ پر کچرا موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ انتظامیہ اور عوام مل کر شجر کاری پر توجہ دیں تاکہ آنے والی نسلوں کو سازگار ماحول فراہم کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اللہ کی نعمتوں کی قدر نہ کرکے ہم ماحولیاتی تباہی کے دھانے پر پہنچ چکے ہیں۔ پاکستان میں کورونا

سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عالمی ادارے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے تسلیم کیا کہ پاکستان ان چار ممالک کی فہرست میں شامل جہاں کووڈ 19 سے نمٹنے کیلئے بہترین فیصلے کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ کورونا کے عدم پھیلاؤ سے متعلق فیصلوں کو دنیا نے تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی فیصلوں سے معاشی تباہی سے بچے رہے جبکہ بھارت میں کورونا

سے متعلق غلط فیصلوں کے باعث بدترین معاشی اور انسانی بحران پیدا ہوا۔وزیراعظم نے خدشے کا اظہار کیا کہ موسم سرما میں کورونا کے کیسز میں اضافہ ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور، کراچی، فیصل آباد، پشاور سمیت دیگر شہروں

میں آلودگی زیادہ ہے اور موسم سرما میں پہلے ہی دیگر وائرس کا حملہ زیادہ ہوتا ہے ایسے میں کورونا وباء پھیل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 ارب درخت لگانے کا منصوبہ اور شہروں کو صاف کرنا ہمارے اہداف میں کلیدی ہے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…