بھارت 500 رافیل بھی لے آئے، ہم تیار ہیں، پاک فو ج کا دبنگ اعلان

  جمعرات‬‮ 13 اگست‬‮ 2020  |  19:34

راولپنڈی(این این آئی) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ بھارت یا ایس فور 100 یا 500رافیل لے آئے، پاک فوج تیار ہے ، بھرپور جواب دینگے ، پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ ہمارے خیال کی نمائندگی کرتا ہے،کورونا کے دور ان اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی سیز فائر کی اپیل کے باوجود بھارت نے لائن آف کنٹرول پر اپنی روایتی کارروائیاں جاری رکھیں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا،ابھی ایسا کوئی ظلم باقی نہیں رہا جس کا کشمیریوں نے برداشت نہ کیا ہو،جوانوں کو شہید اور انسداد دہشت گردی


کے نام پر نامعلوم مقامات پر دفن کیا جارہا ہے،دنیا بھر میں بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھ رہی ہے، مقبوضہ کشمیر میں یو این مبصرین یا بین الاقوامی میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں ،کراچی اسٹاک ایکسچینج پر ناکام حملہ ہو یا دہشت گردوں کے لیے منی لانڈرنگ ان تمام کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں،بھارت کے ہمسایوں کیخلاف جارحانہ عزائم علاقائی امن کیلئے خطرہ ہے،کلبھوشن یادیو پر کوئی ڈیل نہیں ہورہی ہے،افغانستان میں امن کا مطلب ہے پاکستان میں امن و امان ، امید ہے افغان امن عمل کا معاملہ جلد کامیابی سے ہمکنار ہوگا،پاک افغان سرحدی علاقے میں 90 فیصد باڑ کا کام مکمل کرلیاہے،احسان اللہ احسان کا ویڈیو میں دعویٰ قطعاً بے بنیاد ہے،احسان اللہ کے فرار ہونے کے ذمہ داران کے خلاف تادیبی کارروائی کی جارہی ہے،ملک دشمن عناصر بلوچستان میں امن خراب کرنے کے در پر ہیں،ہمارے سیکیورٹی ادارے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کیلئے دن رات مصروف عمل ہیں، اس حوالے سے بہت پیشرفت ہوئی ہے ،مناسب وقت پر آپ کے ساتھ شیئر کی جائیگی، سعودی عرب سے تعلقات بہترین ہیں اور رہیں گے، کسی کو مسلم دنیا میں سعودی عرب کی مرکزیت پر کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے،سی پیک کی سیکیورٹی ہماری ذمہ داری ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ جمعرات کو یہاں میڈیا سےبات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امسال اب تک بھارت نے ایک ہزار 927 مرتبہ سیز فائر معاہدے کے خلاف ورزی کی۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ بھارت ریاستی دہشت گردی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں ایک سال سے نسل کشی اور مقبوضہ (خطے) میں انسانی حقوق کی پامالی کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک پہلے سے طے شدہ ، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت خطے کی آبادی کو تبدیل کرکے بھارت وہاں رہنے والے مسلمانوں کو بےدخل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہاکہ ابھی ایسا کوئی ظلم باقی نہیں رہا جس کا کشمیریوں نے برداشت نہ کیا ہو، نوجوانوں کو شہید اور انسداد دہشت گردی کے نام پر نامعلوم مقامات پر دفن کیا جارہا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جاری ہیں۔میجر جنرل افتخاربابر نے کہا کہ تمام علاقائی اور بین الاقوامی فورموں پر حکومت پاکستان نے مسئلہ کشمیر اجاگر کیا اور دنیابھر میں بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھ رہی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بین الاقوامی میڈیا نے مقبوضہ وادی میں بھارت کے اقدامات کو بے نقاب کردیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کشمیر میں انسانی حقوق پر زور دیا ہے۔انہوںنے کہاکہ بطور پیشہ وارانہ آرمی بھارت کی صرف ان پوسٹ کو نشانہ بنایا جاتا ہے جہاں سے سیز فائر کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ 22 جولائی کو بین الاقوامی میڈیا کو ایل او سیتک مکمل رسائی دی گئی اور متاثرین سے بات چیت کی، اس کے برعکس بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں یو این مبصرین یا بین الاقوامی میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے مسئلہ کشمیر، بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی، افغان امن عمل، آپریشن ردالفساد و دیگر معاملات پر بات کی۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں ذات پات اور نسلی تعصب کی جو آگ لگی ہے وہ پورے بھارت میں پھیل چکیہے اور اب خطے کو بھی اس سے خطرہ لاحق ہے۔ انہوںنے کہاکہ کراچی اسٹاک ایکسچینج پر ناکام حملہ ہو یا دہشت گردوں کے لیے منی لانڈرنگ ان تمام کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں۔آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ان ماؤں سے آزادی کی اہمیت کے بارے میں پوچھیں جو اپنے بیٹے کو پاکستان کے پرچم سے دفن کرتی ہیں۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پاکستان نےدنیا کے سامنے کشمیریوں کی حالت زار کو اجاگر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مختلف آپریشنز اور بارڈر منیجمنٹ کے ذریعے قبائلی علاقوں میں امن قائم ہوا۔انہوںنے کہاکہ پاکستانی میڈیا نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں بہترین کردار ادا کیا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں امن کی بحالی کے لیے بھرپور کردار ادا کیا اور امید کرتے ہیں کہ افغان امن عمل کا معاملہ جلد کامیابی سےہمکنار ہو۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کا مطلب ہے کہ پاکستان میں امن و امان۔میجر جنرل افتخار بابر نے کہا کہ افغانیوں کے بعد اگر افغانستان میں کوئی امن چاہتا ہے وہ پاکستان ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے فرار اور اس کے بعد ویڈیو پیغام سے متعلق سوال پر کہا کہ ویڈیو کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے، وہ مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔انہوں نےتصدیق کی کہ ہم ایک آپریشن کے دوران احسان اللہ احسان کو استعمال کررہے تھے اور وہ وہاں سے فرار ہوگیا تھا۔میجر جنرل بابر افتخار نے بتایا کہ احسان اللہ احسان کو جتنا عرصہ پاکستان میں رکھا گیا اس دوران اہم معلومات حاصل کیں اور اس سے فائدہ ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کے ذمہ داران ہیں ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جارہی ہے۔صوبہ بلوچستان سے متعلق انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کچھ عرصے سے ملکدشمن قوتیں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے در پر ہیں لیکن پاکستان کے سیکیورٹی ادارے ان عزائم کو ناکام بنانے کے لیے دن رات مصروف عمل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں بہت اہم پیش رفت ہوئی ہے جو مناسب وقت پر آپ کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت بلوچستان کے امن کے ساتھ ساتھ صوبے کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے مصروف عمل ہے، بلوچستانکی ترقی پاکستان کی ترقی ہے اور خوشحال بلوچستان ایک مستحکم پاکستان کی ضمانت ہے۔میجر جنرل بابر افتخار نے افغان امن عمل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن ہوگا تو پاکستان میں امن ہوگا۔پاکستان کے نئے سیاسی نقشے سے متعلق سوال کے جواب میں میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ہمارے خیال کی نمائندگی کرتا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم نے پوری دنیا پر واضح کیا ہے یہ ہے پاکستان اور پاکستان کی جغرافیائی حدجہاں پر علاقائی تنازع چل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ پاک افغان سرحد سے متعلق سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر کسی بھی خوشگوار واقعے سے متعلق معاملے کے حل کے لیے سرحدی میٹنگ کا ایک طریقہ کار موجود ہے اور اسی وجہ سے باڑ لگانے کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ سرحدی لائنسے کوئی آگے نہیں بڑھتا اور اگر کسی جگہ مسئلہ ہوتا ہے تو بارڈر میٹنگ کا نظام موجود ہے۔انہوںنے کہاکہ خیرپختونخوا میں پاک افغان سرحدی علاقے میں 90 فیصد باڑ کا کام مکمل کیا جاچکا ہے۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ کچھ دشوار گزار علاقے تھے جن کی باڑ کا کام آخر کے لیے چھوڑا تھا، اب اس پر کام شروع ہوگیا ہے۔ترجمان پاک فوج نے کہاکہ پاک فوج عوام کے ساتھ مل کر مادر وطن کے دفاع کے لیے تیار ہے، دشمن قوتوں کیافواج پاکستان اورعوام کے درمیان خلیج پیداکرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہاکہ پاکستانی میڈیا نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے، پاکستانی میڈیا نے دہشتگردو ں کے بیانیے کو کامیابی سے شکست دی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور پاکستان کی عوام کو سعودی عرب سے تعلقات پر فخر ہے ، سعودی عرب سے تعلقات بہترین ہیں اور رہیں گے، کسی کو مسلم دنیا میں سعودی عرب کی مرکزیتپر کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی چیف کا دورہ سعودی عرب پہلے سے شیڈول تھا۔ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ کمانڈر کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی عالمی فیصلے کے تناظر میں دی جارہی ہے تاہم اس پر قطعاً کوئی ڈیل نہیں ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کلبوشن یادیو دہشت گرد ہے جس نے پاکستان میں معصوم لوگوں کا خون کیا اس پر ڈیل کا تصور نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی سیکیورٹی کا تعلق پاک آرمی سے ہیاور اسکی سیکیورٹی ہماری ذمہ داری ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎