اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

عمران خان کو وزیراعظم آفس میں کون سی بات ماننے پرمجبور کیا جانے لگا؟ نیا پنڈورا باکس کھل گیا،تہلکہ خیز انکشافات

datetime 12  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی انصار عباسی نے انکشاف کیا ہے کہ سرکاری ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو یہ ماننے پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ انہیں صرف ایک شخص، جہانگیر ترین، نے ہی دھوکا دیا اور تنہا چھوڑ دیا ہے لیکن وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ اپنے ارد گرد بھی دیکھیں کیونکہ ایسا کرنے والے دیگر لوگ بھی ہیں۔ اگرچہ ذرائع سمجھتے ہیں کہ وزیرواعظم عمران خان کو ان کے کچھ با اعتماد لوگوں نے دھوکا دیا ہے۔

لیکن انہی ذرائع کا اصرار ہے کہ حکومت کی چینی مافیا کے ساتھ پینگیں بدستور برقرار ہیں۔ رواں سال فروری میں وزارت صنعت و پیداوار نے اقتصادی رابطہ کمیٹی سے رابطہ کرکے بغیر ٹیکس کی ادائیگی کے تین لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی تجویز پیش کی تاکہ ملک میں چینی کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پایا جا سکے۔ ای سی سی نے اس اقدام کی اجازت نہیں دی بلکہ برآمد پر فوری پابندی عائد کر دی۔ ای سی سی کی رائے تھی کہ ڈیوٹی فری درآمد کے نتیجے میں حکومت کو ٹیکس استثنیٰ اور ڈیوٹی کی مد میں 14؍ ارب روپے کا نقصان ہوگا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، ای سی سی کی رائے تھی کہ درآمدات سے قیمتیں کنٹرول میں رکھنے میں مدد نہیں ملے گی اور یہ اقدام غیر نتیجہ خیز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق، بعد میں کابینہ کے اجلاس میں اسد عمر نے مبینہ طور پر یہ معاملہ اٹھایا اور نتیجتاً کابینہ نے چینی کی درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹی ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ اس ضمن میں 24؍ فروری 2020ء کو ریونیو ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کیا۔ تاہم بعد میں درآمد کردہ چینی پر 750؍ ڈالر فی ٹن کے حساب سے سیلز ٹیکس عائد کیا گیا حالانکہ اس وقت بین الاقوامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت 375؍ ڈالرز فی ٹن تھی۔ ذرائع کے مطابق، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس وقت مقامی چینی پر سیلز ٹیکس کی شرح 11؍ روپے فی کلوگرام تھی، اس وقت درآمد کردہ چینی پر 21؍ روپے فی کلوگرام ٹیکس وصول کیا جا رہا تھا۔

جس سے چینی کا کاروبار کرنے والوں کو مزید 10؍ روپے کا فائدہ پہنچایا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بالآخر اس وقت ختم کیا گیا جب کابینہ کے کچھ ارکان نے یہ معاملہ حکومت کے روبرو اٹھایا۔ توقع ہے کہ 25؍ اپریل کو انکوائری کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد سب کچھ واضح ہوجائے گا کہ طاقتور شوگر لابی سمیت کون ملوث ہے اور جب وفاقی حکومت نے ریگولیٹری ڈیوٹی معاف کی تو 750؍ ڈالر فی ٹن کے حساب سے سیلز ٹیکس کس نے لگایا۔ آج بھی کورونا وائرس کی وبا کے دوران، حکومت نے کھانے پینے کی تمام اشیاء پر ڈیوٹی اور ٹیکس ختم کرنے کی کوشش کی لیکن چینی کے درآمد کنندگان کو 5.5؍ فیصد پیشگی انکم ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے جبکہ مقامی چینی کیلئے گزشتہ بجٹ میں ایڈوانس انکم ٹیکس کی شرح 4.5؍ فیصد سے کم کرکے صرف 0.25؍ فیصد کر دی گئی تھی۔

ایک ذریعے نے کہا کہ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے مقامی شوگر انڈسٹری کی بھرپور خدمت کا سلسلہ جاری ہے اور قیمت پاکستانی عوام سے وصول کی جا رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مسابقتی قیمتوں پر چینی کی درآمد کے نتیجے میں حکومت کو ملک میں چینی کی بڑھتی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔ آج جب چینی کی قیمت 90؍ روپے فی کلوگرام تک جا رہی ہے اور ڈالر 167؍ روپے کا ہوچکا ہے، چینی کی کوئی درآمد نہیں اور یہ صورتحال مقامی مارکیٹ میں چینی پیدا کرنے والوں کیلئے بہت خوشگوار ہے۔ ایف آئی اے کی انکوائری رپورٹ میں پہلے ہی خبردار کیا جا چکا ہے کہ سٹے کی بنیاد پر رمضان کے سیزن میں چینی کی قیمت 100؍ روپے فی کلوگرام ہو جائے گی۔

اس کے علاوہ، چینی مافیا کے کچھ لوگوں نے پہلے ہی وزیراعظم کو دھمکی دی ہے کہ اگر شوگر کمیشن کی جاری تحقیقات بند نہ کی گئیں تو چینی کی قیمتیں 110؍ روپے فی کلوگرام ہو جائے گی۔ کہا جاتا ہے کہ ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء کو بھی اسی مافیا نے دھمکی دی تھی۔واجد ضیاء سے کہا گیا تھا کہ تحقیقات بند کی جائے۔ 2018ء میں جب ای سی سی نے برآمدات کی اجازت دی تھی اس وقت ملک میں چینی کی قیمتیں 55؍ روپے فی کلوگرام پر مستحکم تھی۔ اس کے بعد سے قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔ اس کے بعد سے قیمت بڑھتے بڑھتے اب یہ اوسطاً 68.21؍ روپے فی کلوگرام ہو چکی ہیں۔

سرکاری مداخلت کی وجہ سے پاکستان میں چینی کی قیمتوں میں 13.74؍ روپے فی کلوگرام تک اضافہ ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ 4؍ لاکھ 25؍ ہزار ٹن ماہانہ کے استعمال پر پاکستانی عوام ہر ماہ شوگر انڈسٹری کو 5.7؍ ارب روپے اضافی ادا کر رہے ہیں۔ نومبر 2018ء سے فروری 2020ء تک گزشتہ 16؍ ماہ کے دوران عوام نے اضافی 87؍ ارب روپے ادا کیے جبکہ مارچ 2020ء میں، جب قیمت 80؍ روپے فی کلوگرام تک پہنچی تو عوام نے مزید 10؍ ارب روپے اضافی ادا کیے۔ اور اب، مارکیٹ میں چینی کی قیمت 85؍ سے 90؍ روپے فی کلوگرام تک ہوگئی ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ چینی انڈسٹری کو مزید فائدہ ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…