آج سال کا پہلا دن تھا وزیراعظم کے بقول یہ سال اچھا ہونا تھا لیکن قوم کے لیے اچھے سال کا پہلا دن زیادہ اچھا نہیں رہا، حکومت نے سال کا آغاز پٹرول کی قیمت میں دو روپے اکسٹھ پیسے، بجلی کی قیمت میں ایک روپے چھپن پیسے،
گیس کے سلینڈر میں 277 روپے اور20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 50 روپے تک کے اضافے کے ساتھ کیا اور یہ وہ تمام چیزیں ہیں جن سے وزیراعظم سے لے کر عام انسان تک پورے 22 کروڑ لوگ متاثر ہوتے ہیں گویا حکومت نے پہلے دن پورے ملک کو مہنگائی کی سلامی دے کر نئے سال کی مبارکباد پیش کر دی، یہ کیوں ہو رہا ہے، اس پر شان دار اور جامع تبصرہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی‘ ترقیات و اصلاحات اسد عمر نے کیا، میں اب کنفیوز ہو گیا ہوں کہ شاید یہ وہ اچھائی تھی جس کی بنیاد پر وزیراعظم نے 2020ء کو قوم کے لیے اچھا قرار دیا تھا یا پھر وہ 2020ء جس نے اچھا ثابت ہونا تھا وہ یہ نہیں، وہ شاید پاکستان کے علاوہ کسی دوسرے ملک میں اترا ہو گا اور اس کا فائدہ کسی اور دنیا کے اور لوگ اٹھا رہے ہوں گے، بہرحال مہنگائی ہی سہی لیکن سال تو نیا ہے اور آپ کو یہ سال مبارک ہو، میاں جاوید لطیف سال کے پہلے دن نیب کے پہلے ملزم ہیں‘ نیب کی نظر میں پچھلے اور موجودہ سال میں کیا فرق ہے، فواد چودھری کی مفاہمت کی تجویز بہت اچھی ہے لیکن کیا یہ تجویز ان کی اپنی حکومت کو بھی منظور ہے؟ اور حکومت نے آج کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں آرمی ایکٹ کو تبدیلی کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا، حکومت نے تمام سروسز کے چیفس کی ریٹائرمنٹ ایج 60 سے 64 سال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، وزیراعظم آرمی چیف کو تین سال ایکسٹینشن بھی دے سکیں گے۔



















































