بدھ‬‮ ، 04 مارچ‬‮ 2026 

ن لیگ میں جاسوس موجودہونے کا انکشاف ، خفیہ باتیں لیک کرنے کیلئے کون سا جدید طریقہ استعمال ہونےلگا،شک کیسے ہوا؟پارٹی کے اندر بھونچال مچ گیا

datetime 12  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ ن میں جاسوس موجودہونے کا انکشاف، مشتبہ مخبر پر پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی نظر کیونکہ اس بات کی نشاندہی ہوئی تھی کہ قریبی حلقوں میں ہونے والی خفیہ بات چیت، حتیٰ کہ سرگوشیاں بھی، براہِ راست ’’ایسے افراد‘‘ تک پہنچ رہی تھی جو موجودہ بحرانی وقتوں میں پارٹی کی سیاست پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

روزنامہ جنگ میں شائع خبر کے مطابق بظاہر جس شخص پر سوالات اٹھ رہے ہیں وہ نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز کے قریبی شخص ہیں اور اکثر انہیں پارٹی کے اندر اور باہر پیغام رسانی کا کام دیا جاتا رہا ہے۔یہ شک اس وقت اٹھا جب ایئرپوڈز کا حد سے زیادہ اور غیر ضروری استعمال ہونے لگا۔ ایئرپوڈز ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کی جانب سے بنائے جانے والے بلیوٹوتھ وائرلیس ہیڈفونز ہیں۔ذریعے نے بتایا کہ اُس شخص کے ایئرپوڈز میں جاسوس ڈیوائس نصب ہے اور وہ مشتبہ شخص میٹنگ میں یا پھر کہیں اور جانے کی صورت میں اہم رہنمائوں کے قریب اپنے یہ ایئرپوڈز ’’بھول‘‘ جاتا ہے۔یہ سازش اس وقت گہری ہوئی جب بند کمروں میں انتہائی خفیہ بات چیت فوراً غیر مطلوبہ عناصر تک پہنچ گئی۔ایئرپوڈز عموماً فون کالز سننے کیلئے اُس وقت استعمال کیے جاتے ہیں جب آپ کا آئی فون آپ سے دور رکھا ہو یا پھر آپ اپنا فون ہاتھ میں پکڑے نہیں رکھنا چاہتے، لیکن ایئرپوڈز اور فون کا ایک دوسرے کے 5؍ سے 6؍ میٹر کے دائرے میں ہونا ضروری ہے۔پراڈکٹ بنانے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ اس دائرے کے باہر ایئرپوڈز کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ تاہم، امریکا میں بھی اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ایئرپوڈز کو جاسوسی کے مقاصد کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

لیکن ایسا اس وقت ممکن ہے جب آپ اپنا فون کسی کے قریب رکھ دیں اور ’’لائیو لِسن‘‘ کا آپشن استعمال کرتے ہوئے ایئرپوڈز پر قریبی کمرے میں بیٹھ کر تمام گفتگو سنیں۔تاہم، اس معاملے میں جس شخص پر شک ہے اس کے پاس اکثر اوقات فون نہیں ہوتا اور امکان ہے وہ یہ فون باہر ہی اپنی گاڑی میں رکھ دیتا ہو اور یہ ایئرپوڈز کی رینج میں آتے ہوں جہاں سے یہ سگنل پکڑ لیتے ہیں۔

شک اس لیے بھی بڑھ گیا کہ مذکورہ شخص نے بند کمروں میں ہونے والے اجلاس میں بھی ایئرپوڈز پہننا معمول بنا لیا۔ذریعے کا کہنا ہے کہ ایئرپوڈز میں اگر ’’جاسوس چپ‘‘ نصب کی گئی ہو تو اس میں سرگوشیوں کی آواز بھی آسانی سے سنی جا سکتی ہے۔ اس طرح کوئی بھی شخص 2؍ کلومیٹرز کے فاصلے سے بھی ایئرپوڈز کو استعمال کرتے ہوئے بات چیت باآسانی سن سکتا ہے۔کچھ پارٹی رہنمائوں کیلئے مذکورہ شخص کی جانب سے جاسوسی کرنا حیران کن بات نہیں ہے۔

کیونکہ انہیں اُس شخص کے پارٹی قیادت کے مخالف بنے ہوئے عناصر کے ساتھ تعلقات کا پس منظر معلوم ہے۔مشکوک شخص کو پارٹی کے اندر اور باہر پیغام رساں شخص کا مناسب کردار دیا گیا تھا۔پارٹی کی ایک با اثر شخصیت نے نون لیگ کی صفوں پر طاقتور کھلاڑیوں کی جانب سے حملے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی بار یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون ہمارے ساتھ اور کون ہمارے خلاف۔ذریعے نے مشکوک شخص کے حوالے سے کہا کہ اس پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور اس شخص کے محاسبے کیلئے پارٹی قیادت مختلف شواہد پر غور کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…