منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

افغانستان میں مائنس پاکستان فارمولا ،امریکہ اور بھارت کی سی پیک مخالفت،پاکستان کا جواب اب کیا ہوگا؟حکمت عملی سامنے آگئی

datetime 25  اگست‬‮  2017 |

راولپنڈی(این این آئی)سابق فوجیوں کی تنظیم ویٹرنز آف پاکستان (سابقہ پیسا)نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاء کے بارے میں امریکی پالیسی تضادات کا مجموعہ ہے جس پر دنیا بھر میں تنقید ہو رہی ہے۔اس پالیسی کے خلاف فوجی و سیاسی قیادت اور اپوزیشن کا ایک صفحے پر ہونا خوش آئند ہے۔ امریکہ اور بھارت کی مخالفت کے باوجود سی پیک کو ہر قیمت پر اوربر وقت مکمل کیا جائے گا۔افغانستان میں بھارت کا بڑھتا ہوا کردار اور خطے میں اسکی بالادستی ناقابل قبول ہے ۔

افغانستان میں مائنس پاکستان فارمولا بری طرح ناکام ہو گا۔افغان مسئلہ کا حل فوجی کاروائیاں نہیں ہیں نہ جمہوریت بندوق کی نوک پر لائی جا سکتی ہے۔کسی کے کہنے پر چین اور روس سے تعلقات ختم نہیں کئے جا سکتے۔ ان خیالات کا اظہاروی او پی کے قائم مقام صدر ایڈمرل تسنیم کی سربراہی میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیاجس میں وائس ایڈمرل ہارون، بریگیڈئیر میاں محمود، سابق سفیر سلیم نواز گنڈاپور، بریگیڈئیر سائمن شروف، بریگیڈئیر محمد ریاض، میجر مقصود، کیپٹن بابر ظہیرالدین، میجر فاروق حامد خان، نواز علی، بریگیڈئیر مسعود الحسن اور دیگر شریک تھے۔انھوں نے کہا کہ امریکی صدر اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے بیانات زمینی حقائق کے منافی ہیں کیونکہ دنیا کے کسی بھی ملک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان سے زیادہ قربانیاں نہیں دیں۔ افغانستان میں امریکہ کی ناکامی کا زمہ دار پاکستان نہیں۔پاکستان کو بھارت اور افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کا سامنا ہے جس پر امریکہ کی خاموشی حیران کن ہے۔ ٹی ٹی پی کی قیادت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی کروا رہی ہے جبکہ بھارتی جاسوس کلبھوشن نے دہشت گردی میں ملوث ہونے کا اقرار کیا ہے جو امریکہ کو نظر نہیں آ رہا۔امریکہ کو پاکستان کا ایٹمی پروگرام ایک آنکھ نہیں بھاتاجبکہ بھارت کے نیوکلئیر پروگرام کی ہر طرح سے مدد کی جاتی ہے۔ جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کے متعلق امریکہ کا گھسا پٹا اور رٹا رٹایا موقف مسترد کرتے ہیں۔امریکی خوشنودی کیلئے ہم اپنے اقتدار اعلیٰ، ملکی سالمیت اور آزادی سمجھوتہ نہیں کر سکتے ۔ امریکہ افغانستان میں جمہوریت کیلئے نہیں بلکہ سی پیک کو ہدف بنانے کیلئے موجود ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…