منگل‬‮ ، 28 جولائی‬‮ 2026 

دکانداروں پر فکسڈ ٹیکس عائد

datetime 12  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت نے چھوٹے کاروباروں اور دکان داروں کو ٹیکس نظام میں شامل کرنے کے لیے ایک نیا فکسڈ ٹیکس ماڈل متعارف کرانے کی تجویز پیش کر دی ہے، جس کا مقصد ٹیکس ادائیگی کے عمل کو آسان بنانا اور تاجروں کے تحفظات کو دور کرنا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے کی تیاری کے دوران ملک بھر کے چھوٹے تاجروں اور ان کی نمائندہ تنظیموں سے مشاورت کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی پالیسی میں تاجروں کے مسائل اور تجاویز کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 99 بی کے تحت ایسے دکان دار، جن کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہو، فکسڈ ٹیکس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

حکومت نے تجویز دی ہے کہ اس زمرے میں آنے والے تاجروں سے سالانہ فروخت کا ایک فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ وہ اپنے قابلِ اطلاق ودہولڈنگ ٹیکس کو بھی ایڈجسٹ کر سکیں گے، تاہم ٹیکس ریٹرن جمع کرواتے وقت کم از کم 25 ہزار روپے کی ادائیگی لازمی ہوگی۔

نئے نظام کے تحت چھوٹے دکان داروں کو معمول کے آڈٹ سے استثنیٰ حاصل ہوگا، جبکہ خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی ذمہ داری بھی ان پر عائد نہیں ہوگی۔ مزید برآں، انہیں پوائنٹ آف سیل (POS) مشین نصب کرنے کی شرط سے بھی مستثنیٰ رکھا جائے گا۔

حکام کے مطابق اس اسکیم میں شامل ہونے والے تاجروں کو سبز رنگ کی ایک خصوصی تختی جاری کی جائے گی، جس پر تصدیقی کیو آر کوڈ درج ہوگا۔ یہ تختی دکان پر نمایاں طور پر آویزاں کی جائے گی اور اس کی موجودگی میں ایف بی آر اہلکار بغیر ضرورت دکان میں داخل ہو کر پوچھ گچھ نہیں کر سکیں گے۔

بجٹ میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ اس نظام کے تحت ٹیکس گوشوارہ انتہائی سادہ اور ایک صفحے پر مشتمل ہوگا، جو اردو کے علاوہ دیگر بڑی مقامی زبانوں میں بھی دستیاب کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ تاجر آسانی سے اس سے استفادہ کر سکیں۔



کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…