جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

انسان کی زیادہ سے زیادہ عمر کتنی ہو سکتی ہے؟ نئی تحقیق سامنے آگئی

datetime 27  جولائی  2026 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) انسانی عمر کی آخری حد کیا ہو سکتی ہے؟ یہ سوال طویل عرصے سے سائنسدانوں کے لیے تحقیق کا موضوع رہا ہے۔

اب ایک نئی سائنسی تحقیق نے اس حوالے سے نئی معلومات فراہم کی ہیں، جن کے مطابق جدید طب میں پیش رفت کے باوجود انسانی زندگی کی ایک فطری حد موجود ہے۔سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق انسان کی زیادہ سے زیادہ ممکنہ عمر تقریباً 146 سے 194 سال کے درمیان ہو سکتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مستقبل میں نئی طبی ٹیکنالوجیز اور علاج بڑھاپے کی رفتار کو کم کر سکتے ہیں، لیکن انسانی جسم میں ہونے والی جینیاتی تبدیلیوں کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کے ڈی این اے اور جینز میں قدرتی طور پر تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں۔ بعض تبدیلیاں نقصان نہیں پہنچاتیں، لیکن کچھ خلیات کو متاثر کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں جسم کے مختلف نظام کمزور پڑنے لگتے ہیں اور عمر سے متعلق بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ جینیاتی تبدیلیاں صرف قدرتی عمر رسیدگی کا نتیجہ نہیں ہوتیں بلکہ وائرس، بعض کیمیائی مادے اور سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعیں بھی ان میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔اس تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے ایک جدید کمپیوٹر ماڈل استعمال کیا تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ اگر مستقبل میں بڑھاپے کے اثرات کو نمایاں حد تک کم بھی کر دیا جائے تو انسان زیادہ سے زیادہ کتنی عمر پا سکتا ہے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ 194 سال سے زیادہ عمر تک پہنچنے کے امکانات نہایت محدود ہیں۔تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ جسم کے بعض اعضا، جیسے جلد اور جگر، مسلسل نئے خلیات پیدا کرتے رہتے ہیں، جس سے کسی حد تک نقصان کی تلافی ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس دل اور دماغ کے خلیات آسانی سے دوبارہ پیدا نہیں ہوتے، اس لیے ان میں ہونے والا نقصان وقت کے ساتھ مستقل نوعیت اختیار کر لیتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جینیاتی عوامل انسانی عمر پر گہرا اثر ڈالتے ہیں، لیکن بڑھاپے کے عمل میں دیگر حیاتیاتی اور ماحولیاتی عوامل بھی شامل ہیں، جنہیں بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔واضح رہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ عمر پانے کا مستند ریکارڈ فرانسیسی خاتون جین کالمان کے نام ہے، جنہوں نے 1997 میں 122 برس کی عمر میں وفات پائی تھی، اور یہ ریکارڈ آج تک برقرار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…