اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ بیرون ملک کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے استعمال پر عائد ٹیکس میں نمایاں کمی لانے کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ اقدامات کے تحت ہر بین الاقوامی ٹرانزیکشن پر ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم کرکے صرف 0.5 فیصد کرنے کا منصوبہ ہے، جس سے صارفین کو خاطر خواہ سہولت ملے گی۔قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، مختلف سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں اور دیگر متعلقہ شخصیات کے تعاون پر شکریہ بھی ادا کیا۔محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں دفاعی اور سفارتی میدان میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی افواج نے بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دیا، جبکہ “بنیان مرصوص” کی کامیابی قومی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔
ان کے مطابق مضبوط دفاعی صلاحیتیں معاشی استحکام میں بھی معاون کردار ادا کرتی ہیں۔وزیر خزانہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات نئی جہت اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے چین کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون قرار دیا اور کہا کہ پاک چین تعلقات صرف حکومتی سطح تک محدود نہیں بلکہ عوامی روابط پر بھی مبنی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس کا اثر پاکستان پر بھی پڑا۔ تاہم حکومت نے عوام پر اضافی بوجھ کم رکھنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر 128 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا۔بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے بھی ٹیکس میں نرمی کی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔ سالانہ 22 سے 32 لاکھ روپے آمدنی والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ 32 سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدنی رکھنے والوں کے لیے شرح 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ملکی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے اور حکومت کی اصلاحاتی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق مہنگائی میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ حوصلہ افزا اشارے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نجکاری پروگرام، توانائی شعبے کی اصلاحات اور ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن پر کام تیزی سے جاری ہے۔ ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید نگرانی کے نظام متعارف کرائے جا رہے ہیں۔بجٹ تقریر میں نوجوانوں، کاروباری برادری اور زرعی شعبے کے لیے بھی مختلف اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ حکومت ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ، کیش لیس معیشت، آسان قرضوں، زرعی فنانسنگ اور برآمدات میں اضافے کے لیے نئی پالیسیوں پر عملدرآمد کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ اور فوڈ سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے خصوصی پروگرام بھی متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔



















































